مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 152 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 152

طور 136 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سیکرٹری کے طور پر خدمت بجالا رہا تھا۔ان دنوں مکرم ملک خلیل الرحمن صاحب حضور کے خطبات کا انگریزی میں رواں ترجمہ کرتے تھے۔بعد میں حضور کے حسب ہدایت وہ خطبہ کو سن کر تحریری پر بھی نوٹس بنا کر دوبارہ ترجمہ کی ڈبنگ (Dubbing) کرتے تھے۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے نوٹس بڑے تفصیلی بنائے ہوتے تھے بلکہ ایک لحاظ سے وہ حضور کے خطبہ کا تحریری ترجمہ ہوتا تھا۔مجھے خیال آیا کہ حضور انور نے تبلیغ کے لئے پوری دنیا میں ایک ہلچل سی مچادی ہے لہذا اگر یہ انگریزی ترجمہ علمی صاحب کو بھجوایا جائے تو وہ اس کا عربی میں ترجمہ کر سکتے ہیں یوں ہے عربوں میں بھی حضور انور کے خطبات پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔لہذا میں مکرم ملک صاحب سے وہ ترجمہ لے کر خود ہی حلمی صاحب کو پوسٹ کر دیا کرتا تھا اور علمی صاحب اسے عربی میں ترجمہ کر کے مومن صاحب کو بھیج دیا کرتے تھے۔ملک خلیل الرحمن بھی بڑی محنت سے تحریری ترجمہ تیار کرتے تھے اور علمی صاحب بھی اس انگریزی ترجمہ سے عربی میں ترجمہ کا حق ادا کرتے تھے کہ ایسے لگتا تھا کہ عربی ترجمہ حضور انور کے اردو خطبہ کو براہ راست سن کر کیا گیا ہے۔التقویٰ کے حقیقی محرر مکرم عبدالمومن طاہر صاحب بیان کرتے ہیں کہ: مختلف عرب غیر احمدیوں کی طرف سے سوالات اور اعتراضات آتے تھے ان کے جوابات بھی مکرم حلمی صاحب دیا کرتے تھے۔اکثر لمبے لمبے جوابات ہوتے تھے جن کو بعد میں ہم التقویٰ میں شائع کر دیتے تھے۔خطبہ جمعہ کے ترجمہ اور سوالات کے جوابات کے علاوہ التقویٰ کے اکثر مضامین میں بھی علمی صاحب کا کسی نہ کسی طرح حصہ ہوتا تھا۔اور حقیقت یہ ہے کہ مجلہ التقویٰ وہی چلا رہے تھے۔فرض شناس مبلغ پھر مکرم علی صاحب حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے ارشاد پر مختلف ممالک کے دورہ جات بھی کرتے تھے۔مثلا نائیجیریا اور مالی بھی دورہ پر گئے۔نیز جرمنی اور یورپ کے دیگر ممالک اور انگلینڈ میں دوروں پر جاتے اور سوال وجواب کی مجالس منعقد کیا کرتے تھے۔اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے بعض عرب احمدیوں کو نہ جانے کیوں اپنی کتابیں تالیف کرنے کا شوق ہے۔جبکہ