مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 119 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 119

103 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم تھے ایک زخمی ہوتا تھا وہ ایک ہاتھ سے جھنڈا دوسرے میں منتقل کر لیتا تھا۔وہ کاٹا جا تا تھا تو بعض دفعہ ٹنڈے بازؤوں سے انہوں نے جھنڈوں کو چھاتی کے ساتھ لپیٹا جب وہ بھی کاٹے گئے تب دوسرا آگے بڑھا اور جھنڈا نہیں گرنے دیا اور یکے بعد دیگرے تینوں جرنیل جو چوٹی کے تھے جنگی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہ شہید ہو گئے اور جھنڈے کو نہیں گرنے دیا۔تو اس بات کو معمولی نہ سمجھیں یہ شعائر اللہ کی بہت بڑی عظمت ہوتی ہے اس لئے ساری دنیا میں مسلمانوں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔اپنے اختلافات کو بھلانا چاہئے اور اکٹھے ہو کر اس کا دفاع کرنا چاہئے۔اگر یہود کو یہ معلوم ہو جائے کہ ساری دنیا کے مسلمان اپنے شعائر کی عظمت اور احترام اپنے دل میں اتنا رکھتے ہیں کہ بوڑھے اور بچے کٹ مریں گے لیکن شعائر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے تو پھر مسلمانوں کو وہ بھی تباہ نہیں کر سکتے۔ایسی عظیم زندگی پیدا ہو جائے گی کہ عالم اسلام میں کہ کوئی دنیا کی طاقت پھر اس زندگی کو مٹا نہیں سکتی۔ہم بھی حاضر ہیں، جماعت احمدیہ کو شعائر اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہونا چاہئے اگر کوئی قوم بلائے شعائر کی خاطر قربانی کے لئے بلائے تو ہم حاضر ہیں۔یہ ہے وہ جہاد جو حقیقی جہاد ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور جس کی اسلام نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ حکم دیتا ہے اس لئے اگر آپ کو نہیں آنے دیتے اپنے ساتھ ان خدمتوں میں، اگر آپ سے فی الحال نفرتیں ہیں تو یہاں بیٹھے ایک جہاد شروع کر سکتے ہیں دعا کا جہاد ہے۔آخر جنگ بدر بھی تو اس خیمہ میں جیتی گئی تھی جہاں دعائیں ہو رہی تھیں۔اس میدان میں نہیں جیتی گئی تھی جہاں تھوڑی سی لڑائی ہوئی تھی۔اصل وہ جنگ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ میں جیتی گئی ہے پس وہ جنگ تو آپ یہاں شروع کر دیں پھر اگر خدا توفیق دے گا اور وقت ہمیں بلائے گا تو دنیا دیکھے گی کہ جہاد کے میدان میں احمدی کسی دوسری قوم سے پیچھے نہیں بلکہ ہم ہر میدان میں صف اوّل میں ہوں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔“ خطبه جمعه فرموده 3 فروری 1984ء) 00000