مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 120 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 120

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 104 حُبُّ الْعَرَبِ مِنَ الْإِيْمَانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔کا پر تو ہے۔آپ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہونے والی ہر چیز سے محبت کی۔عربوں سے محبت، ان کے دیار وامصار سے محبت، ان کی گلی کوچوں سے محبت، سرزمین عرب کے سنگریزوں اور ریت کے ذروں تک سے ایسی محبت کی کہ یہاں تک فرما دیا کہ کاش ان کی مٹی کے ذرات کو ایسی عزت وتو قیر سے سر آنکھوں پر بٹھاؤں کہ انہیں اپنی آنکھ کا سرمہ بنالوں۔صرف اس لئے کہ ان گلیوں، ان رستوں اور ان فرات پر میرے آقا و مولا کے قدم مبارک پڑے ہوں گے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبہ میں ”حُبُّ الْعَرَبِ مِنَ الْإِيْمَان“ کا مضمون احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و کشوف اور تحریرات کی روشنی میں بالتفصیل بیان فرمایا ہے۔ذیل میں حضور کے خطبہ سے متعلقہ حصہ پیش کیا جاتا ہے۔" آج کل عالم اسلام پر ایک بہت بڑا ابتلا آیا ہوا ہے اور خاص طور پر عرب ممالک بہت ہی دکھ کا شکار ہیں۔ہر طرف سے ان پر مظالم توڑے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ عربوں کو دنیا سے نیست و نابود کر دیا جائے۔اسرائیل کیا اور مغربی طاقتیں کیا اور مشرقی طاقتیں کیا یہ سارے عربوں کو مظالم کا نشانہ بنا رہی ہیں اور ان سے کھیل کھیل رہے ہیں۔ہتھیار اس غرض سے دیئے جا رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے اس کے مقابل پر کوئی دنیا کی طاقت بھی سنجیدگی سے اُن کی مدد کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کے فیصلے ہیں کہ ایسی حالت میں عربوں کو رکھا جائے کہ ان کا تیل