مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 118
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 102 مقامات مقدسہ کی حفاظت اور جماعت احمدیہ ہمیشہ سے ہی جماعت احمدیہ کو مقدس مقامات کی حفاظت کی فکر رہی ہے اور اس سلسلہ میں جماعت کا ایک ایک فرد ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔ایک ایسے ہی موقعہ پر جب کہ مسجد اقصیٰ کو بم سے اڑانے کی یہودی کوشش ہو رہی تھی حضور نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا: میں جماعت کو پھر دو دعاؤں کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔ایک بارش کے لئے دعا اور ایک عرب دنیا کے لئے دعا۔عرب دنیا میں ایک اور بڑا خطرناک واقعہ رونما ہوا ہے مسجد اقصیٰ کو بم سے اڑانے کی بڑی ذلیل اور نہایت ہی کمینی کوشش کی گئی ہے یہود کی طرف سے اگر چہ نا کام ہو گئے وہ لوگ جو مقرر تھے اس کام پر لیکن یہ پہلے بھی کوششیں ہو چکی ہیں اور نہایت ہی خبیث نہ ارادے ہیں یہود کے۔ان کا مقصد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کے معزز مقامات کو تباہ کر دیا جائے اور کچھ دیر کے بعد لوگ بھول جائیں گے اور پھر وہاں ہم ان کا معبد دوبارہ بنوانے کی بجائے اپنا معبد بنا ئیں اور پھر مسجدوں کو نابود کرنے کے نتیجہ میں اگر چہ بظاہر مسلمان نابود نہیں ہوتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شعار کا قوموں کی زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔جو قو میں اپنے شعار کی ذلت قبول کر لیں وہ ہلاک ہو جایا کرتی ہیں۔آخر ایک کپڑے میں کیا بات تھی جس سے جھنڈا بنایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت فرمائی صحابہ کی کہ جھنڈے کی حفاظت کرنی ہے اور بظاہر ایک بے وقوف آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ جھنڈے کو چھوڑو جان بچانی چاہئے لیکن بالکل بر عکس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تعلیم دی ہے اور ایک جنگ کے موقع پر جو تین سپہ سالار آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگر مقرر فرمائے