مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 96
82 مصالح العرب۔جلد دوم آج کل جب ہر قسم کے علوم پھیل چکے ہیں اور کسی امر کی بابت تحقیق کرنا اتنا مشکل نہیں رہا، یہ بات بآسانی معلوم ہو سکتی ہے کہ کتنے احمدی اسرائیلی فوج میں ہیں۔اور آج اس طرح کا کی دعویٰ اور اعتراض ایک مضحکہ خیز بات سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتا، لیکن ان بیانات سے کم از کم قارئین کرام کو جماعت احمدیہ کے مخالف مولویوں کی کذب بیانیوں میں تفنن طبع کا کسی قدر سامان ضرور ہو جائے گا۔اب اس پر طرفہ تما شا ملاحظہ فرمائیں کہ جب ان بے سرو پاخبروں کی بناء پر اشتعال انگیزی کی فضاء پیدا ہوگئی ہر جگہ پر جماعت کی طرف سے چیلنج دیا گیا کہ کوئی چھ سو کیا چھ افراد بلکہ ایک فرد جماعت کے بارہ میں بھی ثابت نہیں کر سکتا کہ وہ اسرائیلی فوج میں ہے۔چنانچہ ان میں سے ہی ایک مولوی کوثر نیازی صاحب جو اس وقت وفاقی وزیر بھی تھے نے حکومت کے نمائندہ کی حیثیت سے اعلان کیا جس کو مدبر اخبار ” لولاک نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا: ”انہوں نے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی کہ اسرائیلی فوج میں کچھ پاکستانی احمدی موجود ہیں اور انہیں اسرائیلی حکومت نے فوج میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی ہے۔مولانا کوثر نیازی نے اسلام آباد میں حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان کیا کہ اسرائیل میں پاکستانی احمدیوں کے موجود ہونے کی خبر قطعی غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل جایا ہی نہیں جاسکتا۔اور پاکستان کی حکومت اپنے باشندوں کو ایک ایسے ملک میں جانے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے جس کی عربوں کے ساتھ دشمنی ہے۔اور جسے پاکستان نے تسلیم ہی نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہر ذریعہ سے حکومت نے ان خبروں کے صحیح ہونے کے بارہ میں چھان بین اور تحقیقات کی ہیں اور یہ معلوم ہوا ہے کہ کوئی احمدی پاکستان سے اسرائیل نہیں گیا“۔( لولاک 7 رمئی 1976 ء بحوالہ الفرقان مئی 1976ء) اب اس بیان کے بعد مذکورہ بالا اعتراض کو دہرانے والوں کے اعتراض کی اور ان کی دیگر باتوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔اس کا فیصلہ ہم قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں۔اعتراضات محض کذب بیانی اور بے ورق و شمر خشک درخت ثابت ہوئے جبکہ مسیح پاک کے کلمات طیبات کی صداقت کس شان سے پوری ہوئی۔آپ نے فرمایا تھا کہ: جس قدر مخالفت کی گئی اسی قدر زور کے ساتھ اس سلسلہ کی اشاعت ہوئی اور آفاق میں اس کا