مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 95 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 95

مصالح العرب۔جلد دوم 81 نہیں ہے۔احمدیت کے خلاف مولویوں کی کذب بیانیوں کے ذیل میں شاید یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ اس اعتراض کی ابتداء کے بارہ میں بھی حقائق کو یہاں نقل کر دیا جائے۔کیونکہ دیگر اور اعتراضات کی طرح اس اعتراض کی بنیاد بھی جھوٹ اور غلط بیانی پر ہے۔ہوا یوں کہ ایک یہودی جس کا نام نعمانی یا نو ماتی تھانے ایک جگہ لکھا کہ اسرائیلی فوج میں جہاں گردوں اور دوسری اقلیتوں کو داخل ہونے کی اجازت ہے وہاں پر فلسطین کے احمدی باشندوں کے لئے بھی یہ دروازہ کھلا ہے کیونکہ وہ بھی فلسطین کے لاکھوں مسلمانوں کے درمیان قریبا چھ صدافراد کی ایک فلسطینی اقلیت ہے۔یہ خبر ہمارے مخالف مولویوں کے کانوں میں پڑی تو ان کے لئے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا ثابت ہوئی۔چنانچہ روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مدیر نے ایک مولوی صاحب کے حوالہ سے شائع کیا کہ: 1972ء تک اسرائیلی فوج میں چھ سو پاکستانی قادیانی شامل ہو چکے تھے۔“ (نوائے وقت 29 / دسمبر 1975 صفحہ 8 بحوالہ الفرقان مئی 1976 ء ) رائی کا پہاڑ بنانے کا محاورہ شاید اس خبر پر سب سے زیادہ ثابت آتا ہے۔کہاں کسی کا کہنا کہ چھ سو کی تعداد کی فلاں اقلیت کے لئے بھی فوج میں بھرتی کے لئے دروازہ کھلا ہے۔اور کہاں ان سب کو فوج میں شمار کر لینا ، پھر اسی پر ہی بس نہیں بلکہ چونکہ احمدیوں کی ایک کثیر تعداد پاکستان سے تعلق رکھتی ہے اس لئے وہ چھ سو عر بی احمدی کی بجائے پاکستانی قادیانی شمار کر لئے گئے۔کیا کسی جگہ ایسا ہوسکتا ہے؟ شاید صرف پاکستان میں ایسا ممکن ہے۔اب آگے دیکھیں کہ بعض اندھوں کو اندھیرے میں اور بھی دور کی سوجھی۔چنانچہ ہفت روزہ چٹان نے لکھا: ”یہودی پروفیسر کی کتاب کے حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ اگر 1972ء میں چھ سو قادیانی تھے تو اب ان کی تعداد یقیناً ہزاروں تک پہنچ چکی ہوگی ، اور یہ اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہونے والے لوگ ظاہر ہے پاکستان کی فوج سے نکل کر وہاں گئے ہوں گے۔“ چٹان 19 جنوری 1976 ، صفحہ 16 بحوالہ الفرقان مئی 1976ء