مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 94
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 80 لوگ حج کو فرض سمجھتے ہیں۔اس پر مرحوم نے فرمایا کہ جو شخص حج کی فرضیت کا قائل ہے اور اسے اسلام کا ایک اہم رکن سمجھتا ہے اسے حج سے روکنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔“ 00 اخبار صدق جدید لکھنو 6 اگست 1965 ء بحوالہ الفرقان ماہ اکتوبر 1976ء) سلطان ابن سعود کے سامنے مولویوں کا بادل نخواستہ سچ بولنا کہ احمدی حج کو فرض سمجھتے ہیں ان کی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں حائل ہو گیا۔لیکن شاید اب انہیں سمجھ آگئی تھی کہ جب تک ان کا جواب یہ رہے گا کہ احمدی حج کو فرض سمجھتے ہیں تب تلک احمدیوں کو حج کرنے سے روکنا ناممکن ہے۔لہذا انہوں نے یہ بہتان تراشا کہ احمدیوں کا تو حج ہی کسی اور جگہ ہوتا ہے لہذا وہ اسلامی حج کے منکر ہیں اور ایسے شخص پر خانہ کعبہ کے دروازے بند ہونے چاہئیں۔یوں انہوں نے احمدیت کی مخالفت میں جھوٹ کا سہارا لیا۔پچھلی چند سطور میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ جب اس جھوٹ کا انکشاف ہوا اور لوگ اس کی بناء پر حلقہ بگوش احمدیت ہونے لگے تو ایسے مولویوں نے پینترہ بدلتے ہوئے اعلان کرنے شروع کر دیئے کہ یہ غلط باتیں ہیں جن کی ترویج سے ہمیں باز رہنا چاہئے کیونکہ اب ان جھوٹی باتوں کا احمدیوں کو نقصان کی بجائے فائدہ پہنچ رہا ہے۔اسرائیلی فوج میں احمدیوں کی تعداد! ایک اور جھوٹ کا پس منظر !! انہی جھوٹے اعتراضات کی لسٹ میں ایک اعتراض جس کا عربوں سے بھی تعلق ہے اور بلا دعر بیہ سے بھی، یہ ہے کہ اسرائیل میں جماعت احمد یہ بڑی فعال ہے اور اسرائیلی فوج میں احمدی کئی سو کی تعداد میں موجود ہیں۔اس اعتراض کا بھی جماعت کی طرف سے بار ہا مفصل جواب دیا گیا۔آخری بار حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنے نام نہاد وائٹ پیپر میں بھی اس اعتراض کا ذکر کر دیا چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس کا مفصل جواب عطا فرمایا جس میں آپ نے فرمایا کہ اس علاقہ میں جماعت کا مرکز اس وقت کا ہے جب اسرائیل کا کوئی وجود نہ تھا۔آج تک کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ اسرائیلی فوج میں کوئی ایک بھی احمدی ہے۔نیز حضور نے کہا بیر کے ایک احمدی کی کاوش کا بھی ذکر کیا جس نے دس مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں سے یہ شہادت لکھوا کر بھیجی کہ جماعت کا کوئی فرد اسرائیلی فوج میں