مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 93
79 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم میں ہی حج کرتے ہیں لیکن وہ قادیان کو بھی مقدس مانتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔سبحان اللہ ! مسیح پاک کے کلمات طیبات یہ مخالفتیں ہماری مزرعہ کا میابی کے لئے کھاد کا کام دے رہی ہیں کی سچائی کو خدا نے کس شان سے ظاہر فرمایا کہ مخالفین خود اقراری ہو گئے کہ وہ جھوٹے ہیں۔اور آج تک کئی افراد صرف اس بناء پر احمدیت کے قریب ہو رہے ہیں اور اس میں داخل ہورہے ہیں کہ جماعت کے خلاف پروپیگنڈہ صداقت سے عاری ہے۔اس کھاؤ سے خدا کے فضل سے بے شمار ثمرات پیدا ہوئے اور ہورہے ہیں لیکن ان میں سے ایک شیر میں ثمر الحوار المباشر کے فعال اور ہر دلعزیز رکن مکرم ہانی طاہر صاحب بھی ہیں جو احمدیت کے مخالف تھے اور احمدیت کو اس قابل بھی نہ سمجھتے تھے کہ اس کے بارہ میں تحقیق کی جائے۔لیکن مودودی صاحب کی کتاب پڑھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ ایسی جماعت بھی ہو سکتی ہے جس کے اتنے غلط عقائد میں پھر بھی اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتی ہے۔تحقیق کی غرض سے جب مطالعہ شروع کیا تو حقیقت کھل گئی اور احمدیت میں داخل ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔قادیان میں حج کرنے کے بہتان کا پس منظر جماعت احمدیہ پر قادیان میں حج کرنے کا بہتان تو بعض عرب شر پسند ملاؤں کے بیانات سے ہی جھوٹا ثابت ہو گیا ہے لیکن اس سیاق میں یہ درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں حج کرنے کا الزام کہاں سے آیا۔چونکہ مولوی حضرات بزعم خویش سمجھ رہے تھے اگر وہ مختلف ممالک میں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے جماعت کو غیر مسلم قرار دلوانے میں کامیاب ہو گئے تو گویا اسلام کی بہت بڑی خدمت کرنے والے شمار ہوں گے۔اپنی ان مزعومہ ”جہادی سرگرمیوں میں انہوں نے سعودی حکومت سے بھی رابطے کئے اور افراد جماعت احمدیہ کو حج سے رکوانے کی کوشش کی۔اس سلسلہ میں مولانا عبد الماجد دریا آبادی مدیر اخبار صدق جدید کا یہ بیان ملاحظہ ہو: حجرہ نشین مولویوں نے مرحوم (سلطان ابن سعود ) سے کہا کہ چونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں اس لئے انہیں حجاز مقدس سے نکال دیا جائے۔مرحوم نے مولوی صاحبان سے پوچھا کہ قادیان حج کو اسلام کا رکن اور اس کو فرض سمجھتے ہیں یا نہیں؟ جواب میں انہیں یہ کہتے ہی بنی کہ یہ