مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 533
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 509 ڈاکٹر فیروز الدین صاحب کی تدفین "کریتر نامی شہر کے مرکزی قبرستان میں ہوئی اور کی ان کی قبر آج تک وہاں موجود ہے۔ایک اور عالم آغوش احمدیت میں اوائل 1948ء میں مولوی غلام احمد صاحب نے مرکز میں لکھا کہ اس علاقہ کے لوگ بالکل ہی اسلام سے بے بہرہ اور بددیانہ زندگی بسر کر رہے ہیں حتی کہ انہیں قرآن شریف الگ رہا نماز تک نہیں آتی۔اگر آپ اجازت دیں تو خاکسار درویشانہ فقیرانہ صورت میں اندرونی حصہ عرب میں چلا جائے اور ان لوگوں تک اسلام و احمدیت کا حقیقی پیغام بذریعہ تربیت ہی پہنچائے تو عدن کی نسبت زیادہ کامیابی کی امید ہے۔لیکن مرکز نے اس کی اجازت نہ دی۔اس تجویز کے ایک ماہ بعد محمد سعید احمد نامی ایک اور عرب عالم سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے جس کے بعد جماعت عدن کے بالغ افراد کی تعداد 9 ( عرب 2۔ہندی گجراتی 1۔پنجابی 6 ) تک پہنچ گئی۔اپریل 1948ء میں مولوی غلام احمد صاحب شیخ عثمان (عدن) کے نواح میں ایک گاؤں ”معلا نامی میں تبلیغ کے لئے گئے جو کہ شیخ عثمان سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔وہاں ایک فقیہ عالم سے گفتگو کا موقع ملا۔مولوی صاحب نے انہیں امام مہدی علیہ السلام کی خوشخبری دی اور احادیث صحیحہ اور قرآن کریم سے آپ کی آمد کی علامات بتا کر صداقت ثابت کی اور آخر میں مسئلہ وفات مسیح پر دلائل دیے۔قریباً ایک گھنٹہ گفتگو ہوتی رہی۔آخر انہوں نے تمام لوگوں کے سامنے اقرار کیا کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اور باقی مسائل پر گفتگو کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔عیسائی مشنری کا تعاقب نومبر 1948ء کا واقعہ ہے کہ ایک عرب نوجوان جو عیسائی مشنریوں کے زیر اثر ان کے پاس آتا جاتا تھا آپ کو گفتگو کے لئے ایک پادری کے مکان پر لے گیا۔وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ چار نوجوان عرب بیٹھے انا جیل پڑھ رہے ہیں۔گفتگو شروع ہوئی تو مولوی صاحب نے اناجیل ہی کے حوالوں سے ثابت کیا کہ حضرت مسیح میں کوئی خدائی صفات نہ پائی جاتی تھیں۔پادری صاحب لا جواب ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہماری کتابوں سے کیوں حوالے دیتے ہیں؟ مولوی صاحب نے جواب دیا ایک اس لئے کہ آپ کو وہ مسلم ہیں دوسرے آپ ہمیں انجیلوں کی طرف