مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 532
508 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول خراب کر رہا ہے۔شیخ عثمان کے بعض نوجوانوں کو اس شکایت کا پتہ چلا تو انہوں نے علماء کے اس رویہ کی جو انہوں نے اپنی کم علمی و بے بضاعتی کو چھپانے اور اپنی شکست خوردہ ذہنیت پر پردہ ڈالنے کے لئے اختیار کیا تھا دل کھول کر مذمت کی اور ان کے خلاف زبردست پراپیگنڈہ کیا۔بلکہ قریباً پچاس آدمیوں نے لکھا کہ ہم اس مبشر اسلامی کو دیگر سب علماء سے زیادہ پسند کرتے ہیں ، اور واقعی یہ حقیقی مسلمان ہے اور جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت کے فقیہوں اور فریسیوں نے حضرت مسیح کی مخالفت کی تھی ویسے ہی یہ لوگ بھی مخالفت کر رہے ہیں۔کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر اس شخص کا نفوذ وسیع ہو گیا تو ہماری کوئی وقعت نہ رہے گی۔غرضیکہ اس مخالفت کا خدا کے فضل سے اچھا نتیجہ نکلا۔ڈاکٹر فیروز الدین صاحب کا انتقال ان دنوں عدن میں یہود اور عرب کی کشمکش بھی یکا یک زور پکڑ گئی جس کا اثر تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پڑنا ناگزیر تھا۔علاوہ ازیں عدن کی جماعت کے پریذیڈنٹ جناب ڈاکٹر فیروز الدین صاحب عین فسادات کے دوران میں داغ مفارقت دے گئے جس سے مشن کو بہت نقصان پہنچا۔مرحوم نہایت مخلص، نہایت پر جوش اور بہت سی صفات حمیدہ کے مالک تھے۔تبلیغ کا جوش اور شغف ان میں بے نظیر تھا۔اگر کوئی مریض ان کے گھر پر آتا تو وہ اس تک ضرور محبت ، اخلاص اور ہمدردی سے احمدیت کا پیغام پہنچاتے۔احمدیت کے مالی جہاد میں بھی آمدنی میں کمی کے باوجود بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مولوی غلام احمد صاحب مبشر نے اپنی 27 دسمبر 1947ء کی رپورٹ میں ان کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا:۔احمدیت کی مالی خدمت کا جو جوش اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر رکھا ہوا تھا اس کی نظیر بھی کم ہی پائی جاتی ہے۔ہمارا اندازہ ہے کہ وہ ہر سال ( اپنی آمد کا ) ساٹھ فیصد ہی اشاعت اسلام کے لئے خرچ کر رہے تھے۔مساکین، غرباء سے ہمدردی اور خدمت خلق کا جذ بہ تو کوٹ کوٹ کر ان کے دل میں بھرا ہوا تھا۔اگر کوئی مسکین بھی ان کے دروازے پر آجاتا اور وہ سوال کرتا تو آپ ضرور اس کی حاجت پوری کر دیتے۔بعض اوقات اپنی نئی پہنی ہوئی قمیص و ہیں اتار کر دے دیتے اور یہی باتیں بعض اوقات ان کے گھر میں کشمکش کا باعث ہو جاتیں۔غرضیکہ آپ کی زندگی حقیقت میں یہاں کی جماعت کے لئے ایک عمدہ نمونہ تھی“۔