مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 513
489 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہے۔یہ مقدمہ جماعت احمدیہ کے موجودہ امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کا رقم فرمودہ ہے۔جہاں تک ترجمہ کا تعلق ہے تو میں نے مختلف سورتوں کی بہت سی آیات کے ترجمہ کو مختلف مقامات پر چیک کیا ہے اور اسے قرآن کریم کے منظر عام پر آنے والے جملہ تراجم میں سے بہترین ترجمہ پایا ہے جو نہایت باریک بینی اور احتیاط سے کیا گیا ہے، اور قرآن کریم کی نازل شدہ آیات کے عربی محاورہ کا قریب ترین مفہوم ادا کرنے کی ایک قابل قدر کوشش ہے۔مترجم نے اس بات کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا ہے کہ عربی زبان کے نہایت محکم اور غایت درجہ کے بلاغت اور اعجاز کی خصوصیات کے حامل محاورہ کا من وعن ترجمہ دوسری زبان میں ادا کرنا تقریبا محال ہے۔کیونکہ یہ وہ خصوصیات ہیں جو عربی زبان و اسلوب میں خدا کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن کریم کا ہی خاصہ ہیں جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے نہ تحریف، کیونکہ وہ لفظا ومعنی خدا کا کلام ہے۔اس بات کے پیش نظر جرمن ترجمہ کے ساتھ قرآن کریم کی عربی نص کو بھی رکھا گیا ہے۔تا کہ پڑھنے والا خود ہی موازنہ کر کے وہ معنی اخذ کر لے جس کی صحت کے بارہ میں اسکی طبیعت میں اطمینان پیدا ہوتا ہو۔میں نے ان آیات کا ترجمہ بالخصوص چیک کیا جو قتال اور جہاد فی سبیل اللہ سے متعلق ہیں، کہ شاید اس ترجمہ میں ایسے افکار کی آمیزش ہو جو جماعت احمد یہ جہاد کے بارہ میں رکھتی ہے اور جس میں جماعت احمد یہ تمام مسلمانوں سے اختلاف رکھتی ہے۔کیونکہ وہ کہتی ہے کہ جہا د تیرو تفنگ سے نہیں بلکہ پر امن وسائل کے ساتھ ہونا چاہئے۔چنانچہ میں نے ان مذکورہ بالا آیات کا ترجمہ چیک کیا تو اسے بالکل درست پایا اور اس میں جس بات کا مجھے ڈر تھا اسکا ادنیٰ اشارہ بھی نہ پایا۔مقدمہ میں مؤلف نے فلسفیانہ رنگ میں بلند پایہ اسلامی بحوث درج کی ہیں اور اسے دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔جن میں سے پہلی قسم میں دنیا کی اس طبعی ضرورت کا بیان کیا ہے جو نزول قرآن کی متقاضی تھی۔اور یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کی تعالیم کا جزو اعظم خدا تعالیٰ کی وحدانیت ہے جو کہ تمام بنی نوع انسان کی توحید کا ضامن ہے۔اور جب انسانی ارتقاء ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار کرنے لگے اور ایک جماعت کی تشکیل کے لئے کوشاں ہو گئے۔چنانچہ ایسی صورت میں وہ ایک مکمل آسمانی تعلیم کے محتاج تھے جو تمام انسانوں کے لئے ہو اور ہر زمان و مکان کے لئے ہو۔اور انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اسکی