مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 514 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 514

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 490 عظمت پر اطلاع دے۔چنانچہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس نے ان تمام ضرورتوں کو پورا کیا ہے اور یہ کام سرانجام دیا۔مقدمہ کی دوسری قسم میں مؤلف نے قرآن کریم کی محکم بناوٹ اور گزشتہ کتب اور انکی حالت کے بارہ میں ذکر کیا ہے۔اور یہ کہ قرآن کریم ہی وہ مقدس کتاب ہے جو درحقیقت خدا تعالیٰ کا نازل ہونے والا کلام ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی تحریف و تبدیل سے محفوظ رکھا ہے۔اس ضمن میں مؤلف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد باسعادت میں مختلف وسائل سے قرآن کریم کے محفوظ رہنے کا ذکر بھی کیا ہے جن میں کتابت وحی اور مختلف حفاظ کے ذریعہ اسکا محفوظ ہونا شامل ہے۔اسی طرح ترتیب آیات و سور کے ضمن میں مؤلف نے لکھا ہے کہ یہ سب کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ وحی کے مطابق تھا۔اگر ان بعض خفیف اور غیر واضح قسم کے اشارات سے صرف نظر سے کام لیا جائے جو احمدیت کے تصور جہاد سے متعلق ہیں تو ہمارا خیال ہے کہ یہ مقدمہ اپنی دونوں اقسام کے ساتھ نہایت مفید اور بے مثال اسلامی بحوث پر مشتمل ہے اور جرمن زبان میں قرآن کریم سے متعلق اسلامی تعالیم اور افکار کی ایک حسین صورت پیش کرتا ہے۔ہاں مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ مقدمہ آخر پر مسیح منتظر ( مرزا غلام احمد ) کے بارہ میں ایک باب پر ختم ہوتا ہے اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس باب کو اس ترجمہ اور مقدمہ سے الگ کر کے شائع کیا جاتا۔کیونکہ اگر ایسا کیا جاتا تو یہ بہت ہی مفید ہوتا۔احمدیت اسلام کا روشن مستقبل 66۔۔۔۔۔رساله "هافوعيل ما تصعير تل ابیب نے 25 / مارچ 1953 ء کو لکھا: "لا شك أن للأحمدية في تاريخ الإسلام فضل یعنی بلا شبہ تحریک احمدیت کو تاریخ اسلام میں خصوصی مقام حاصل ہے۔الحاج عبد الوہاب العسکری (بغداد کے صحافی) لکھتے ہیں : جماعت احمدیہ نے دین اسلام کی جو خدمات سرانجام دی ہیں۔ان میں تبلیغی لحاظ سے وہ ساری دنیا پر فوقیت حاصل کر چکے ہیں۔یہ لوگ اعلائے کلمتہ الدین کے لئے ہر قسم کے ممکن ذرائع اختیار کرتے ہیں اور ان کے بڑے بڑے کارناموں میں سے محکمہ تبشیر ایک بہت