مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 481 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 481

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ولم تكن فتاوى الأستاذ الشيخ مخلوف عادية يمر عليها الإنسان مر الكرام بل إن كثيرا منها أثار روائح وعواصف وكان موضع القيل والقال وفى مقدمة هذه الفتاوى۔۔۔۔۔۔۔فتواه في شان الطائفة القاديانية“۔(بحواله الفضل 11 ظهور 1343هش صفحه 4-5) 459 یعنی الاستاذ الشیخ مخلوف کے فتاویٰ ایسے معمولی حیثیت کے نہ تھے جن کو انسان بآسانی نظر انداز کر دے بلکہ ان کے اکثر فتوے آندھیاں اٹھانے اور طوفان برپا کرنے کا موجب بنے۔یہی وجہ ہے کہ ان پر ہر جگہ اعتراضات کی بوچھاڑ کی گئی۔ان قابل اعتراض فتاوی میں سرفہرست قادیانی جماعت سے متعلق فتویٰ ہے۔مصر کے شاہ فاروق کا عبرتناک انجام الشیخ حسنین محمد مخلوف تو دو سال کے بعد پنشن یاب ہوئے مگر شاہ فاروق کی نسبت خدائے ذوالجلال کا آسمانی فیصلہ اس نام نہاد فتویٰ کے چند دن بعد ہی نافذ ہو گیا یعنی 23-22 جولا ئی تو 1952ء کی شب کو مصری افواج نے لیفٹیننٹ جمال عبد الناصر کی قیادت میں بغاوت کر دی۔مصر وسوڈان کے اس مطلق العنان بادشاہ کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور عسکری انقلاب کے بعد جنرل محمد نجیب مصر کے سر براہ مقرر ہوئے۔جنرل محمد نجیب نے بادشاہ کو معزول اور ملک بدر کرنے کے لئے حسب ذیل اعلامیہ جاری کیا:۔انه نظراً لما لاقته البلاد في العهد الأخير من فوضى شاملة عمت جميع المرافق نتيجة سوء تصرفكم وعبثكم بالدستور وامتهانكم لإرادة الشعب حتى أصبح كل فرد من أفراده لا يطمئن على حياته أو ماله أو كرامته ولقد ساءت سمعة مصر بين شعوب العالم من تماديكم في هذه المسلك حتى أصبح الخونة والمرتشون يجدون في ظلكم الحماية والأمن والثراء الفاحش والإسراف الماجن على حساب الشعب الجائع الفقير، ولقد تجلت أية ذالك في حرب فلسطين وما تبعها من فضائح الأسلحة الفاسدة وما ترتب عليها