مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 454 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 454

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 432 ایک یہودی ایڈیٹر بھی سوار تھے جو چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی سخت مذمت کرتے اور آپ کو برا بھلا کہ رہے تھے۔یہودی حلقے آپ کی شخصیت سے اتنا بغض و عناد کیوں رکھتے ہیں؟ مندرجہ بالا پس منظر کی روشنی میں اس کا سبب بآسانی سمجھ میں آجاتا ہے۔چنانچہ دشمنان دیں نے اپنی انتقامی کارروائی کیلئے مصر کی سرزمین کو چنا اور مفتی دیار مصریہ فضیلة الاستاذ الشیخ حسین محمد مخلوف کے ذریعہ حضرت چوہدری صاحب پر احمدی ہونے کی بناء پر فتوی کفر شائع کرا دیا گیا۔یہ فتوی 22 جون 1952 کو منظر عام پر آیا جس میں فضیلۃ الاستاذ الشیخ مخلوف نے لکھا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ پاکستان غیر مسلم بلکہ کافر ہیں کیونکہ پاکستان کے ایسے مخصوص فرقہ کی طرف منسوب ہوتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کا منکر ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اسلام میں سلسلہ انبیاء جاری ہے۔اليوم ( یا فا) 21 شوال 1371 ھ بحوالہ البشری محلہ 18 صفحہ 106) جہاں یہ فتویٰ مشرق وسطی کے عرب ممالک نے نمایاں طور پر شائع کیا وہاں مغربی پنجاب کا اخبار ”زمیندار“ ان دنوں احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور فتنہ آرائی میں دوسرے مخالف اخبارات میں پیش پیش تھا۔اس اخبار نے اپنی 8 جولائی 1952 کی اشاعت میں اس فتویٰ کو صفحہ اول پر چوکھٹہ کے ساتھ شائع کیا۔عنوان یہ تھا۔”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔۔۔مفتی اعظم مصر السید محمد حسنين المخلوف کا فتوی فتویٰ تکفیر کا پس منظر مصری عالم الاستاذ احمد بہاء الدین نے اپنی کتاب ”فاروق۔۔۔ملگا میں اس فتویٰ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت چوہدری صاحب کو زبرست خراج تحسین بھی ادا کیا لیکن ساتھ ہی ایک فرضی واقعہ بھی ان کے قلم سے لکھا گیا ہے۔فرماتے ہیں۔السيد ظفر الله خان معروف بجرأته وصراحته ، وقد كان مارا بالقاهرة في طريقه إلى بلده وتشرف بمقابله الملك وكان الرجل قد عاش في الخارج زمنا طويلاً، وقرأ من فضائح فاروق