مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 453
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 431 ہے۔آج کی صحافت میں کوئی ایسی سچی بات کہنے سے ہچکچاتا ہے، بلا مفاد و منفعت کے محض حق کو حق کہنے کی خاطر کوئی بھی ایسی جرات نہیں کرتا کہ اس طرح کے کڑوے سچ کو منظر عام پر لا سکے، اور اس طرح کھل کر تجزیہ کر کے اعتراف کرے کہ یہ جماعت احمدیہ ہی تھی جس نے مسلمانوں کو متحد رہنے کے لئے صدا دی۔اور یہ جماعت احمد یہ ہی تھی جس نے اس اتحاد کے لئے عملی کوششیں کیں اور بلا داسلامیہ کو اس سلسلہ میں عملی قدم اٹھانے پر اکسایا۔ایسی صورتحال میں گو کہ ہمیں علم نہیں ہے کہ الاستاذ علی الخیاط آفندی صاحب اور آپ کے خاندان کے افراد اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں تاہم ان کے اس جرات مندانہ اقدام اور پر شجاعت بیان پر شکر گزار ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں کہ اس زمانہ کی صحافت میں کوئی تو ایسا تھا کہ جس نے حق کو حق کہا اور دشمن کو بے نقاب کرنے کے لئے بے لوث کوشش کی جسے ایک لمبے عرصہ تک حق و انصاف کے پرستار یا د رکھیں گے اور ایک مثال کے طور پر پیش کرتے رہیں گے۔مفتی مصر کا فتویٰ تکفیر اور اس کا محرک حضرت چوہدری صاحب تو ملت اسلامیہ کے بطل جلیل کی حیثیت سے عرب ممالک کی بے لوث عالمی خدمات میں سرگرم عمل تھے کہ استعماری طاقتوں کی ان خفیہ اور جارحانہ کوششوں میں یکا یک تیزی پیدا ہوگئی جو ان کی طرف سے الکفر ملة واحدة “ کے مضمون کی اشاعت کے بعد جماعت احمدیہ کے خلاف جاری تھیں۔اس ضمن میں الاستاذ علی الخیاط آفندی کا سنسنی خیز انکشاف گزر چکا ہے۔علاوہ ازیں یہودی صحافی اور زعماء حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے ان کے قضیہ فلسطین کے کامیاب دفاع کی وجہ سے سخت نالاں تھے اور دل میں نہایت درجہ کا بغض رکھتے تھے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اس تاک میں تھے کہ کب ان کو موقعہ ملے اور وہ حضرت چوہدری صاحب کے خلاف کوئی کاروائی کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔اس کی ایک جھلک مندرجہ ذیل اقتباس سے بھی نمایاں ہو جاتی ہے: حمید نظامی کے 1954 ء کے خطوط (مطبوعہ ”نشان منزل ص 49) میں یہ ذکر ملتا ہے کہ وہ وی آنا‘ عالمی کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے تو ان کے جہاز میں ایک یہودی عالم اور