مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 399 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 399

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 377 منکر کا کیا حکم ہوگا؟ تو ہمارے مندرجہ بالا بیان کے بعد اس سوال کا کوئی موقع ہی نہیں اور یہ ہے سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔واللہ اعلم محمود شلتوت محمود شلتوت کے فتویٰ کا رد عمل اس فتویٰ کا منظر عام پر آنا ہی تھا کہ مصر کے قدامت پرست علماء نے علامہ محمود شلتوت کے خلاف مخالفت کا زبر دست طوفان کھڑا کر دیا اور اخبارات میں سب و شتم اور طعن و تشنیع سے بھرے ہوئے سخت اشتعال انگیز مضامین شائع کئے اور لکھا کہ یہ فتویٰ قادیانیوں کی موافقت میں ہے اور یہی وہ ہتھیار ہے جس سے قادیانی ہمارے ساتھ مباحثات و مناظرات کرتے ہیں اور یہ فتویٰ قادیانیت کی عظیم الشان فتح ہے اس لئے از ہر کو چاہیے کہ اس کو واپس لے لے۔علماء مصر از ہر نے اس فتویٰ پر کس قدر گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کیا ؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے ذیل میں فضیلت الاستاذ الشیخ عبد الله محمد الصدیق الغماری کے ایک مضمون کے بعض اہم اقتباسات۔(جناب شیخ نور احمد صاحب منیر مبلغ بلاد عربیہ کے ایک مفصل مضمون ( مطبوعہ الفضل 8/9 وفا ہش 1325 ، 8/9 جولائی 1946 ء سے ماخوذ) کا اردو ترجمہ دیا جاتا ہے۔الشیخ محمد الصدیق الغماری نے لکھا۔ایک ہندوستانی عبدالکریم نامی نے ایک سوال مشائخ از ہر کے نام ارسال کیا جس میں یہ دریافت کیا گیا کہ آیا حضرت عیسی از روائے قرآن کریم وحدیث زندہ ہیں یا وفات یافتہ۔“ یہ اس سوال کا خلاصہ ہے۔اگر سائل کا مقصد استفادہ اور استر شاد کا ہوتا تو اس سوال کا جواب ان ہندوستانی علماء کی کتب میں دیکھتا جو اس موضوع میں اردو اور عربی زبان میں تحریر کی گئی ہیں۔لیکن یہ ہندوستانی اس سوال سے مستفیض ہونا نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ تو اس فتویٰ کو با قاعدہ قانونی طریقہ سے حاصل کر کے اپنے دعاوی کے اثبات میں بطور ایک دلیل اور سہارا بنانا چاہتا تھا۔اس کا یہ حیلہ کارگر ہو گیا اور دنیا کے عجائبات میں سے ایک امجو بہ ہو گیا بلکہ یہ حیلہ اپنے نوع کے لحاظ سے اول نمبر پر ہے۔یہ وہ انجو بہ ہے جس سے ایک اندھے ہندوستانی نے ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، چنانچہ الرسالة والرواية کے 462 صفحہ میں ایک فتویٰ شیخ محمود شلتوت کے دستخطوں۔شائع ہوا ہے جس کا عنوان ” رفع عیسی ہے اور اس فتویٰ کا مضمون یہ ہے کہ عیسی حقیقی موت