مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 398
376 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل میری تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ حضرت عیسی کو یہود کے درمیان سے چھین کر آسمان پر لے جانا مگر کیسے کہلا سکتا ہے؟ اور پھر اسے ان کی تدبیر سے بہتر تدبیر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کا مقابلہ کرنا یہود کی اور نہ کسی اور کی طاقت میں ہے۔یا درکھیئے کہ لفظ مکر کا اطلاق اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ وہ بات اسی طریق پر ہو اور عادت سے خارج نہ ہو۔چنانچہ بالکل اسی طرح کی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں وارد ہوئی ہے فرمایا: وإذ يمكر بك الذين كفروا ليثبتوك أو يقتلوك أويخرجوك ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين خلاصه بحث مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ 1۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں کوئی ایسی سند موجود نہیں ہے جو تسلی بخش طریق پر اس عقیدہ کی بنیاد بن سکے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور وہ اب تک وہاں زندہ ہیں اور وہیں سے کسی وقت زمین پر نازل ہونگے۔2۔اس بارے میں آیات قرآنیہ صرف یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی سے وعدہ فرمایا کہ ان کی مدت عمر کو پورا کریگا اور پھر اس کا اپنی طرف رفع کریگا اور اسے کافروں سے بچائے گا۔اور یہ کہ یہ وعدہ پورا ہو چکا۔دشمن حضرت عیسی کو نہ قتل کر سکے نہ صلیب سے مار سکے بلکہ اللہ نے ان کی مدت زندگی کو پورا کر کے ان کو وفات دی اور ان کا رفع کیا۔3۔یقیناً جو شخص حضرت عیسی کے زندہ جسم سمیت آسمان پر جانے اور آج تک وہاں بیٹھے رہنے اور آخری زمانہ میں اترنے کا منکر ہے وہ کسی ایسی بات کا منکر نہیں جو کسی قطعی دلیل سے ثابت ہو۔پس ایسا شخص اپنے اسلام و ایمان سے ہرگز خارج نہیں ہوتا۔اور اس کو مرتد قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ وہ پکا مومن مسلم ہے۔جب وہ فوت ہوگا تو مومن ہوگا۔اس کی نماز جنازہ اسی طرح پڑھی جائیگی جس طرح مومنوں کی پڑھی جاتی ہے اور اسے مومنوں کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا۔اللہ کے نزدیک ایسے شخص کے ایمان میں کوئی داغ نہیں ہے اللہ اپنے بندوں کو جاننے والا اور دیکھنے والا ہے۔رہا استفتاء میں مندرج آخری سوال کہ اگر حضرت عیسی دوبارہ آئیں گے تو ان کے