مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 400 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 400

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 378 سے وفات پاچکے ہیں۔اور آپ کا رفع آسمان کی طرف نہیں ہوا۔اور نہ ہی وہ آخری زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور اس بارہ میں جتنی احادیث وارد ہیں وہ احاد کا درجہ رکھتی ہیں اور عقائد کے بارہ میں احاد کا کوئی درجہ نہیں۔نیز یہ روایت وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی ہے اور ان دونوں کا درجہ محدثین کے نزدیک معروف ہے یعنی غیر مقبولین اور غیر تفتین۔یہ وہ فتویٰ ہے جس نے امت محمدیہ کے اجماع کو پاش پاش کر دیا ہے اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فتویٰ اس وجہ سے ایک بہت بڑی مصیبت اور ایک اہم واقعہ ہے۔اس فتویٰ میں پہلی غلطی تو یہ ہے کہ اس کا دینے والا جلد باز معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ جب قاری اس فتویٰ اور غیر مصر کے علماء کی تحقیق کے درمیان مواز نہ کریگا تو وہ مندرجہ ذیل امور پر پہنچے گا کہ جامعہ از ہر کو علم حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔یہ نتیجہ اس سے نکلتا ہے کہ مفتی نے دعویٰ کیا ہے کہ نزول عیسی کی حدیث احاد میں سے ہے۔دوسرے اسے اس حدیث کی صحت میں شک ہے جو کہ بخاری شریف اور مسلم میں موجود ہے۔سوم وہ مفتی کہتا ہے کہ حدیث نزول وہب اور کعب سے مروی ہے۔چہارم اس کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔حالانکہ ان کی احادیث صحیح ہیں۔پنجم یہ کہ احادیث نزول میں اضطراب پایا جاتا ہے۔دوم ازہر میں کوئی ایسا فرد نہیں پایا جاتا جو اجماع اور خلاف کے مواقع کو جانتا ہو کیونکہ مفتی نے حضرت عیسی کے رفع اور نزول سے انکار کیا ہے۔دوم یہ کہ احاد احادیث عقائد ، اور مغیبات میں عمل نہیں ہوتا۔یہ وہ امور ہیں جو قاری کے ذہن میں موازنہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں اور اس فتویٰ کو ازہر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ ازہر کے علماء کبار میں سے ایک عالم نے فتویٰ دیا ہے اور لوگ آج کل ظاہری حالات کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ جزو کو کل پر محمول کرتے ہیں چاہے وہ صحیح امر کے خلاف ہی ہو۔قادیانی جماعت نے اس فتویٰ کو اپنے لئے بطور ایک دلیل اور ہتھیار اختیار کر لیا ہے اور اس فتویٰ کو لے کر وہ مسلمانوں کے پاس جا کر ان کو بیوقوف بناتے اور ان کے خیال کو خطا پر محمول کرتے تھے اور وہ خوش اور مسرور ہیں اور وہ کامیاب اور محمد لہجہ میں کہتے ہیں۔ماهو ذا الأزهر يوافقنا ويخا لفكم فليس عيسى بحى ولا هو مرفوع ولا هو نازل كما تزعمون فأين تذهبون یہ ہے جامعہ الازہر جو ہماری تائید کر رہا ہے اور تمہاری مخالفت۔پس عیسی نہ تو زندہ ہیں