مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 394 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 394

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 372 حسب ذیل جواب تحریر کیا ہے۔اما بعد قرآن کریم نے تین سورتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ایسے طور پر ذکر فرمایا ہے جس سے ان کے ہونے والے انجام کا پتہ لگتا ہے۔1۔سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فلما أحس عيسى منهم الكفر (الآية) 2۔سورۃ النساء میں آتا ہے۔وقولهم إنا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله (الآية) 3 سورۃ المائدہ میں فرمایا۔وإذ قال الله يا عيسى ابن مريم (الآية) یہی آیات ہیں جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے انجام کو قرآن پاک نے بیان کیا ہے۔آخری آیت ( سورۃ مائدہ والی ) اس معاملہ کا ذکر کرتی ہے جو دنیا میں نصاری کے مسیح اور ان کی والدہ کی عبادت کرنے سے متعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں حضرت مسیح علیہ السلام سے سوال کیا ہے۔آیت مذکورہ حضرت مسیح علیہ السلام کی زبانی بتاتی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو ہمیشہ وہی کہا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے نیز آیت بتلاتی ہے کہ جب تک حضرت عیسی علیہ السلام ان کے درمیان رہے ان کے نگران تھے اور انہیں اپنی توفی کے بعد اپنی قوم میں پیدا ہونے والے واقعات و حالات کا مطلقاً علم نہیں ہے۔لفظ تو فی قرآن مجید میں موت کے معنوں میں بکثرت آیا ہے یہاں تک کہ توفی کے یہ معنی ہی غالب اور متبادر ہو گئے ہیں۔اور لفظ تو فی موت کے معنی کے سوا کسی اور معنی میں صرف اسی وقت کا استعمال ہوا ہے جب کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ پایا جاتا ہو جو اسے اس متبادر إلى الذهن معنی میں استعمال ہونے سے روکتا ہو۔آیات ذیل بطور نمونہ یہ ہیں۔قل يتوفاكم ملك الموت الذى و كل بكم إن الذين توفتهم الملائكة ظالمى أنفسهم ولو ترى إذ يتوفى الذين كفروا الملائكة توفته رسلنا ومنكم من يتوفى حتى يتوفاهن الموت توفنى مسلما وألحقني بالصالحين اور آیت قرآنی فلما تو فيتنى كنت أنت الرقيب عليهم میں لفظ تو فیتنی کا حق ہے کہ اسے مذکورہ بالا متبادر معنوں پر ہی محمول کیا جائے اور وہ یہ کہ توفی کے معنے موت کے