مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 395 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 395

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 373 ہیں۔اس لفظ کے یہ معنی تمام لوگ جانتے ہیں اور خود لفظ توفی سے نیز آیت کے سیاق سے بھی سب عربی بولنے والے یہی معنے سمجھتے ہیں۔اندریں صوررت اگر اس آیت میں کچھ اور نہ ملایا جائے جس سے مسیح علیہ السلام کے انجام کی وضاحت کی جائے تو یہ کہنے کی ہر گز گنجائش نہیں ہے کہ حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے یا یہ کہ زندہ ہیں۔اس آیت میں اس رکیک تاویل کا بھی موقع نہیں کہ وفات سے مراد اس جگہ وہ وفات ہے جو آسمان سے اترنے کے بعد واقع ہوگی۔یہ تاویل وہ لوگ کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان میں زندہ ہیں اور وہی آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے کیونکہ زیر نظر آیت واضح طور پر اس تعلق کی حد بندی کر رہی ہے جو ان کا اپنی قوم سے تھا باقی وہ لوگ جو آخری زمانہ میں ہیں وہ تو بالا تفاق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں نہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم۔اس لئے ان سے حضرت عیسی کا کیا تعلق۔سورۃ نساء کی آیت میں ”بل رفعه الله إلیہ “ آیا ہے۔بعض بلکہ اکثر مفسرین میں اس کی تفسیر آسمان پر اُٹھائے جانے کے ساتھ کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے مسیح کی شکل کسی اور پر ڈال دی اور انہیں جسم سمیت آسمان پر اٹھا لیا۔وہ اب آسمان میں زندہ ہیں وہاں سے آخری زمانہ میں اتریں گے۔سؤروں کو قتل کریں گے اور صلیوں کو توڑیں گے۔مفسرین اپنے اس عقیدہ کی بنیاد اول تو ان روایات پر رکھتے ہیں جو بتاتی ہیں کہ عیسی دجال کے بعد نازل ہوں گے۔یہ روایات مضطرب ہیں۔ان کے الفاظ اور معنی میں اتنا شدید اختلاف ہے کہ تطبیق ناممکن ہے خود علماء حدیث نے اس کی تصریح کی ہے۔علاوہ ازیں یہ وہب بن منبہ اور کعب الاحبار کی روایات ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے تھے۔علمائے جرح و تعدیل کے نزدیک ان راویوں کا جو درجہ ہے وہ آپ خود جانتے ہیں دوسری بنیاد مفسرین کے نزدیک حضرت ابو ہریرہ کی وہ روایت ہے جس میں انہوں نے نزول عیسی کی خبر ذکر کرنے پر حصر کیا ہے۔یہ حدیث اگر صحیح بھی ہو تو بھی حدیث احاد ہے اور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ احادیث احاد کسی عقیدہ کی بنیاد نہیں بن سکتیں اور نہ پیشگوئیوں کے سلسلے میں ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔مفسرین کے دعوی کی تیسری بنیاد حدیث معراج ہے جس میں آتا ہے کہ جب آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر گئے تو یکے بعد دیگرے آسمان کھلتے جاتے تھے اور حضور ان میں داخل ہوتے جاتے تھے۔اسی اثناء میں حضور نے دوسرے آسمان پر حضرت عیسی اور ان کے خالہ زاد بھائی حضرت بیٹی علیہ السلام کو دیکھا۔ہمارے نزدیک اس سند سے اس استدلال کی کمزوری