مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 386 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 386

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 364 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی شاندار فتح شیخ الازہر علامہ محمود شلتوت کا فتویٰ وفات مسیح جیسا کہ سلسلہ احمدیہ کی ابتدائی تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی مسیحیت کے بعد دنیائے اسلام کے سامنے جو مخصوص علم کلام پیش فرمایا اس میں نظریہ وفات مسیح کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔یہی وجہ ہے کہ 1892ء سے یعنی اس زمانہ سے جبکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہاماً انکشاف ہوا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق آپ آئے ہیں، مخالف علماء نے نہ صرف آپ پر فتویٰ کفر لگایا بلکہ بڑے زور و شور سے مسئلہ حیات مسیح کی تائید کے لئے مناظروں کا بازار گرم کر دیا اور اپنے موقف کی تائید میں پے در پے کتابیں اور رسائل شائع کرنے لگے۔یہ علمی جنگ پوری شدت سے جاری تھی کہ اس سال مشرق وسطی کے بعض مسلم ممالک سے یکا یک وفات مسیح کے حق میں ایک مفصل فتویٰ شائع ہو گیا جس نے قائلین حیات مسیح کے کیمپ میں زبر دست کھلبلی مچا دی۔یہ فتویٰ عالم اسلام کی قدیم ترین یو نیورسٹی جامعہ ازہر کی جماعت کبار العلماء کے رُکن فضیلۃ الاستاذ علامہ محمود شلتوت کا تھا جو قاہرہ کے ہفت روزہ الرسالة“ کی جلد 10 شمارہ 462 مورخہ 11 مئی 1942ء میں رفع عیسی کے عنوان سے شائع ہوا۔از تاریخ احمدیت ، جلد 8 صفحہ 296 )