مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 387 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 387

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول علامہ محمود شلتوت کا مختصر تعارف 365 علامہ محمود شلتوت 23 اپریل 1893ء کو عمر مغید بنی منصور ( بحیرہ) میں پیدا ہوئے۔1918ء میں عالمیہ نظامیہ کی ڈگری حاصل کی۔1927ء میں قاہرہ میں اعلیٰ تعلیم کے استاذ بنے۔1928ء میں جب الشیخ مراغی شیخ الازہر مقرر ہوئے تو آپ نے ازہر کی اصلاح و تجدید میں ان کا ہاتھ بٹایا۔1935ء میں آپ کو گلیۃ الشریعۃ الاسلامیۃ کی وکالت سپرد ہوئی۔1941ء میں آپ علماء کبار کی جماعت کے رکن تجویز کئے گئے۔1942ء میں آپ نے وفاتِ مسیح سے متعلق معرکۃ الآراء فتویٰ دیا۔1957ء میں آپ موتمر اسلامی کے مشیر مقرر کئے گئے۔اور 1 2 /اکتوبر 1958ء کو منصب شیخ الازہر پر فائز کئے گئے اور دسمبر 1963ء میں انتقال فرما گئے۔علامہ محمود شلتوت نے نہایت قابل قدرلر پچر اپنے پیچھے علمی یادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔( مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو مجلہ لا زہر جلد 30 شمارہ 4-5 ربیع الآخر و جمادی الاولی 1378 ہجری) فتویٰ کے محرک عبدالکریم خان صاحب یوسف زئی نومبر 1906ء میں بمقام کرلوپ (جموں) پیدا ہوئے اور غالباً 8 جون 1933ء کو تحریری بیعت کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے (الحکم 28 جولائی 1935ء صفحہ 9-10) دوسری جنگ عظیم کے دوران آپ مشرق وسطی میں مقیم تھے۔اسی زمانہ میں آپ نے علماء مصر سے تحریری طور پر یہ فتویٰ طلب کیا کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام قرآن وسنت کی رو سے زندہ ہیں یا وفات پاگئے ہیں؟ آپ 1947ء میں پونچھ میں شہید کر دیئے گئے۔ملخص از تاریخ احمدیت جلد 8 صفحه 297) علامہ محمود شلتوت کے فتویٰ کا مکمل متن علامہ محمود شلتوت کے اس معرکۃ الاراء فتوی کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔ورد إلى مشيخة الأزهر الجليلة من حضرة عبدالكريم خان بالقيادة العامة لجيوش الشرق الأوسط سؤال جاء فيه "هل عيسى حى أو ميت في نظر القرآن الكريم والسنة المطهرة؟ وما