مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 384 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 384

362 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لیواؤں کو خواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ ہم سے ان کے کتنے اختلافات ہیں ان کی حفاظت فرما اور اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کر سکتے وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ کر دے اور ہمارے دل کا دُکھ ہمارے ہاتھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ہو جائے۔“ الفضل 3 جولائی 1942 ءصفحہ 4-5) بعض متعصب ہندو ہمیشہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوستان کی نسبت مکہ اور مدینہ کی محبت بہت زیادہ ہے۔اس موقعہ پر حضور نے اس اعتراض کا یہ نہایت لطیف جواب دیا کہ:۔وو ” بے شک دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے۔لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں یعنی ملک اور مقامات مقدسہ تو مؤخر الذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کے شعار کی حفاظت کا سوال ہے اس لئے ہم اسے مقدم کریں گے۔بیشک ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں لیکن ان پتھروں کو ضرور فضیلت دیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے۔۔۔۔ایک مادہ پرست ہندو کیا جانتا ہے کہ وطن اور خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ شعائر میں کیا فرق ہے۔وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے کی وجہ سے اس فرق کو سمجھ نہیں سکتا۔۔۔۔حُبُّ الْوَطن مِنَ الْإِیمَان ہمارے ایمان کا جزو ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ہیں۔وہ پتھر جنہیں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا ہمیں وطن سے زیادہ عزیز ہیں۔اس پر کوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔“ الفضل 3 جولائی 1942 ، صفحہ 5) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی اس تحریک پر قادیان اور بیرونی احمدی جماعتوں میں مقامات مقدسہ کے لئے مسلسل نہایت پُر درد دعاؤں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے محبوب خلیفہ اور اپنی پیاری جماعت کی تضرعات کو بہپائیہ قبولیت جگہ دی اور جلد ہی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔چنانچہ 23 اکتوبر 1942ء کو برطانوی فوجوں نے العالمین پر