مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 383
361 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول جولوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کام فرشتوں سے لینا تھا اسے کرنے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں اس لئے وہ فرشتے بن جاتے ہیں۔اور جب وہ فرشتے ہو گئے تو مر کیسے سکتے ہیں۔فرشتے نہیں مرا کرتے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ شہداء کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔پس گوان مقامات کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ مسلمان ان کی حفاظت کے فرض سے آزاد ہو گئے ہیں۔بلکہ ضروری ہے کہ ہر سچا مسلمان ان کی حفاظت کے لئے اپنی پوری کوشش کرے جو اس کے بس میں ہے۔“ الفضل 3 جولائی 1942 ءصفحہ 3-4) خطبہ کے آخر میں حضور نے خاص تحریک فرمائی کہ احمدی ممالک اسلامیہ کی حفاظت کے وو لئے نہایت تضرع اور عاجزی سے دعائیں کریں۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔یہ مقامات روز بروز جنگ کے قریب آرہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی مشیت اور اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کر سکتے ، ادنی ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دیدے مگر ہم تو یہ بھی نہیں کر سکتے اور اس خطرناک وقت میں صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دُور لے جائے اور اپنے فضل سے ان کی حفاظت فرمائے۔وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کیلئے آسمان سے وبا بھیج دی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے اس کے مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے کچل۔۔۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے۔اور اس طرح دعائیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہوا چلاتا ہے۔جس طرح ماں سے جدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ و زاری کرتی ہے اسی طرح اپنے رب کے حضور دعائیں کریں کہ اے اللہ ! تو خود ان مقدس مقامات کی حفاظت فرما۔اور ان لوگوں کی اولا دوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جانیں فدا کر گئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج سے جو دوسرے مقامات پر پیش آرہے ہیں بچا لے۔اور اسلام کے نام۔