مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 376 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 376

354 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کسی قدر محفوظ خیال کرتے ہیں۔لیکن جس وقت کی یہ بات ہورہی ہے اس وقت دوسری عالمی کی جنگ کا ابھی خاتمہ ہوا ہی تھا اور بڑے بڑے ممالک کے خلاف چھوٹے ممالک کی ادنی سی حرکت بھی دوبارہ جنگ کا بازار گرم کر سکتی تھی۔اور بلا دعر بیہ کا میدان جنگ بننے کا سب۔زیادہ نقصان مسلمانوں اور انکے مقدس مقامات کو ہونا تھا۔اس لئے رشید عالی الکیلانی کی اس حرکت کو عالم اسلام میں بڑی نفرت کی نظر سے دیکھا گیا۔مختلف اسلامی تنظیمات اور دینی جماعتوں کی طرف سے اس امر کی مذمت کی گئی۔کسی نے رشید عالی اور مفتی یروشلم کو گالیاں دیں تو کسی نے ان کو غدار قرار دیا۔ایسے میں ہمیشہ کی طرح اگر کوئی جرات مندانہ آواز بلند ہوئی تو جماعت احمدیہ کی طرف سے ہوئی۔اور اگر کسی کے منہ سے کلمہ حق انکا تو وہ امام جماعت احمدیہ کی زبان مبارک سے نکلا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایسے موقعہ پر خاموش رہنا گوارا نہ فرمایا اور 25 مئی 1941ء کو لاہور ریڈیو سٹیشن سے عراق کے حالات پر تبصرہ “ کے عنوان سے ایک اہم تقریر فرمائی جسے دہلی اور لکھنو کے سٹیشنوں نے بھی نشر کیا۔حضور نے فرمایا: عراق کی موجودہ شورش دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بھی اور ہندوستان کے لئے بھی تشویش کا موجب ہو رہی ہے۔عراق کا دارالخلافہ بغداد اور اس کی بندرگاہ بصرہ اور اس کے تیل کے چشموں کا مرکز موصل ایسے مقامات ہیں جن کے نام سے ایک مسلمان بچپن ہی سے روشناس ہو جاتا ہے۔بنو عباس کی حکومت علوم وفنون کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے طبعاً مسلمانوں کے لئے ایک خوشکن یادگار ہے۔لیکن الف لیلہ جو عربی علوم کی طرف توجہ کرنے والے بچوں کی بہترین دوست ہے۔اس میں تو بغداد کے بازار اور بصرہ کی گلیاں اور موصل کی سڑکیں ان کے سامنے اس طرح آکھڑی ہوتی ہیں کہ گویا کہ انہوں نے ساری عمر انہی میں بسر کی ہے۔میں اپنی نسبت تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ بچپن میں بغداد اور بصرہ مجھے لنڈن اور پیرس سے کہیں زیادہ دلکش نظر آیا کرتے تھے کیونکہ اول الذکر میرے علم کی دیواروں کے اندر بند تھے اور ثانی الذکر میری قوت واہمہ کے ساتھ تمام عالم میں پرواز کرتے نظر آتے تھے۔جب ذرا بڑے ہوئے تو علم حدیث نے امام احمد بن حنبل کو فقہ نے ، امام ابو حنیفہ اور امام یوسف کو تصوف نے ، جنید شبلی اور سید عبد القادر جیلانی کو تاریخ نے ، عبد الرحمن بن قیم کو علم