مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 377
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 355 تدریس نے ، نظام الدین طوسی کو ادب نے ، مبرد، سیبویہ، جریر، اور فرزدق کو سیاست نے ، ہارون، مامون اور ملک شاہ جیسے لوگوں کو جو اپنے اپنے دائرہ میں یادگار زمانہ تھے اور ہیں ، ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے لا کر اس طرح کھڑا کیا کہ اب تک ان کے کمالات کے مشاہدہ سے دل امید سے پر ہیں اور افکار بلند پروازیوں میں مشغول ہیں۔ان کمالات کے مظہر اور دلکشیوں کے پیدا کرنے والے عراق میں فتنہ کے ظاہر ہونے پر مسلمانوں کے دل دکھے بغیر کس طرح رہ سکتے ہیں ؟ کیا ان ہزاروں بزرگوں کے مقابر جو دنیوی نہیں روحانی رشتہ سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں ان پر بمباری کا خطرہ ہمیں بے فکر رہنے دے سکتا ہے؟ عراق سنی اور شیعہ دونوں کے بزرگوں کے مقدس مقامات کا جامع ہے۔آج وہ امن خطرہ میں پڑ رہا ہے اور دنیا کے مسلمان اس پر خاموش نہیں رہ سکتے اور خاموش نہیں ہیں۔دنیا کے ہر گوشہ کے مسلمان اس وقت گھبراہٹ ظاہر کر رہے ہیں اور ان کی یہ گھبراہٹ بجا ہے کیونکہ وہ جنگ جس کے تصفیہ کی افریقہ کے صحرا، میڈیٹرینین کے سمندر میں امید کی جاتی تھی اب وہ مسلمانوں کے گھروں میں لڑی جائیگی۔اب ہماری مساجد کے صحن اور ہمارے بزرگوں کے مقابر کے احاطے اس کی آماجگاہ بنیں گے۔اور یہ سب کو معلوم ہے کہ جرمنوں نے جن ملکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ان کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اگر شیخ رشید علی جیلانی اور ان کے ساتھی جرمنی سے ساز باز نہ کرتے تو اسلامی دنیا کے لئے یہ خطرہ پیدا نہ ہوتا۔اس فتنہ کے نتیجہ میں ٹرکی گر گیا ہے۔ایران کے دروازہ پر جنگ آ گئی ہے، شام جنگ کا راستہ بن گیا ہے ، عراق جنگ کی آماجگاہ ہو گیا ہے۔افغانستان جنگ کے دروازہ پر آ کھڑا ہوا ہے اور سب سے بڑا خطرہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ مقامات جو ہمیں ہمارے وطنوں ، ہماری جانوں اور ہماری عزتوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں جنگ ان کی عین سرحد تک آگئی ہے۔وہ بے فصیلوں کے مقدس مقامات وہ ظاہری حفاظت کے سامانوں سے خالی جگہیں جن کی دیواروں سے ہمارے دل لٹک رہے ہیں اب بمباروں اور جھپٹانی طیاروں کی زد میں ہیں۔اور یہ سب کچھ ہمارے ہی چند بھائیوں کی غلطی سے ہوا ہے۔کیونکہ ان کی اس غلطی سے پہلے جنگ ان مقامات مقدسہ سے سینکڑوں میل پرے تھی۔ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کو اس کی ابتداء میں ہی دبا دینے کی کوشش کرے۔ابھی وقت ہے کہ جنگ کو پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ ابھی تک عراق اور شام