مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 375
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 353 امام جماعت احمدیہ مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے سینہ سپر رشید عالی الکیلانی عراق کے پہلے وزیر اعظم کے اقرباء میں سے تھا۔جس نے عثمانیوں سے عراق کی آزادی کے لئے مختلف خفیہ تنظیموں میں کام کیا۔دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ کے فوراً بعد مئی 1941 ء میں انہوں نے خفیہ تنظیموں کے بعض فوجی افسران کے ساتھ مل کر اپنی دانست میں عراق کو بچانے اور اس کو برطانوی تسلط سے آزاد کروانے کے لئے ایک تنظیم قائم کی۔دوسری طرف اس نے یروشلم کے مفتی الشیخ امین الحسینی کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا اور جرمنی کے ساتھ مل کر برطانوی تسلط کے خلاف تدابیر کرنے لگا۔یہ شخص ہٹلر سے بھی ملا اور اس کے تعاون سے جرمنی میں ایک ریڈیو سٹیشن قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا جہاں سے تمام عرب دنیا کو مخاطب کر کے عراق اور عرب ممالک کی آزادی اور برطانوی تسلط کے خلاف ابھارتا تھا۔(http://ar۔wikipedia۔org/wiki) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف برطانیہ کی طرف سے عراق پر شدید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں تو دوسری طرف نازی طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کے مقدس مقامات کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔آج کل شاید اس خطرناک صورت حال کو سمجھنا اتنا آسان نہ ہو کیونکہ آج کل عرب ممالک کی کسی قدر آزادی اور خود مختاری قائم ہے۔اسی طرح مالی ، اقتصادی اور امن عامہ کی صورتحال بھی نسبتاً بہتر ہے۔عالمی سطح پر ایک ملک کی دوسرے کے خلاف جارحیت کے سد باب کے لئے قوانین ہیں اور اکثر ممالک بڑی بڑی طاقتوں کے ساتھ معاہدات کر کے اپنے آپ کو