مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 334
314 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول مندرجہ ذیل تالیفات کر کے شائع کیں : التَّاوِيلُ الصَحيحُ لِنُزُولِ المَسِيح، أسْتَلَةٌ وأَحْوَبَةٌ، كَشفُ الغطاء عَنْ وَجُهِ شريعة البَهَاءِ، محمّدٌ رَسُولُ اللهِ خَاتم النبيين ومُفتي الديار المصرية، نداءُ المُنَادِى ( چار حصے) ان کے علاوہ بڑی تعداد میں عربی اور عبرانی تبلیغی ٹریکٹ شائع کئے۔(الفضل 5 راگست 1942 ء ، تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 506) جماعت احمد یہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے حیفا کی اسلامی لاء کورٹ نے احمدیوں کی نکاح خوانی سے انکار کر دیا تھا۔انکا اصرار تھا کہ جماعت احمدیہ کو کئی ایک مسلمان علماء اسلام سے خارج جماعت سمجھتے ہیں۔مکرم چوہدری شریف صاحب نے یہ معاملہ بیت المقدس میں موجود مجلس الاسلامی الاعلیٰ تک پہنچایا۔جس کا فیصلہ آپ کے حق میں ہوا اور اس مجلس نے تمام عدالتوں کو ہدایت جاری کر دی کہ جماعت احمد یہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے۔لہذا آئندہ سے اس فیصلہ کے مطابق عمل کیا جائے۔شخص از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحه 531) چوہدری محمد شریف صاحب اس واقعہ کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔”یہاں یہ قانون ہے کہ مسلمانوں کا نکاح عدالت شرعیہ کی اجازت کے بعد رجسٹر ڈ نکاح خواں ہی پڑھ سکتا ہے۔گذشتہ پندرہ سال سے احمدیوں کے نکاح بھی اسی طرح پڑھے جاتے تھے۔اب کے دسمبر 1942ء میں دو احمدی افریقن کی طرف سے سرکاری شرعی فارم پُر کر کے عدالت شرعیہ حیفا میں اجازت عقد نکاح کے لئے پیش کیا گیا۔مگر قاضی عدالت شرعیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔اور افریقن کو کہا کہ جب تک تم مسلمان نہ ہو تمہارا نکاح پڑھا نہیں جا سکتا اس پر خاکسار نے ڈسٹرک کمشنر حیفا سے ملاقات کی۔مجلس الاسلامی الاعلی سے بھی خط و کتابت کی۔آخر آٹھ ماہ کی لمبی چوڑی خط و کتابت اور ڈسٹرکٹ کمشنر سے دو تین ملاقاتوں کے بعد اب مسلم سپریم کونسل نے قاضی شرعی حیفا کے حکم کو غلط قرار دے دیا گیا۔اور یہ فیصلہ صادر کیا ہے کہ احمدی مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ ہیں اس لئے حسب دستور سابق احمد یوں کے نکاح پڑھے جایا کریں۔چنانچہ وہ نکاح جس کا انعقاد آٹھ ماہ سے رکا ہوا تھا۔اب قاضی شرعی حیفا کے بھی حکم سے ہو چکا ہے اور یہ احمدیت کی دوسری فتح ہے“۔والحمد للہ علی ذلک۔الفضل 26 اکتوبر 1943 ، صفحہ 4