مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 335 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 335

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد اول 315 واقعی یہ چوہدری محمد شریف صاحب کا بہت بڑا کارنامہ ہے جو آپ نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے ادا کیا اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی بہتر سے بہتر جزا دے۔آمین۔اور صرف یہی نہیں کہ مولا نا صاحب نے ایک بہت بڑی مشکل کو حل کیا اور یہ اس عرصہ کے جملہ مبلغین کرام کی ایک بے مثال خوبی تھی کہ ان کے اعلیٰ سطح کے افسران اور ذمہ دار افراد کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہوتے تھے۔بلکہ جب آپ کمشنر صاحب کے پاس گئے تو اس مشکل کو پیش کرنے کے علاوہ اسلامی لٹریچر بھی پیش کیا اور بعد ازاں کئی کتب بذریعہ ڈاک بھیجی گئیں۔دعوت مقابلہ اور مخالفین کا فرار ملخص از الفضل 3 1 / مارچ 1943 ءصفحہ 3) مولا نا محمد شریف صاحب نے جنوری 1947ء میں پیٹری آرک آف انطاکیہ کو خصوصاً اور فلسطین و شام کے پڑی آرکوں اور بشپوں کو عموماً چیلنج دیا کہ وہ بیت المقدس میں اسلام اور عیسائیت کے اختلافی مسائل کی نسبت تقریری اور تحریری مناظرہ کر لیں۔یہ چیلنج، عراق، مصر، شام، لبنان وغیرہ کے اخبارات میں شائع ہوا۔مگر انہیں میدان مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کے اخبارات میں شد ( تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحه 507) ہوسکی۔جماعت احمدیہ یہ چیلنج قبول کرتی ہے مولا نا محمد شریف صاحب اپنی ایک رپورٹ (بابت جنوری تا اپریل 1947 ء ) میں تحریر فرماتے ہیں:۔اس سال کے شروع ہونے پر اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا نام تمام بلاد عربیہ میں مشہور کرنے اور اس کی اشاعت کے لئے اپنی طرف سے راستے کھولنے کا سامان فرمایا۔جس کے لئے اس کی طرف سے ایک خاص تحریک پیدا ہوئی۔جس سے عربی صحافت میں احمدیت کا چرچا لوگوں کے لئے جاذب نظر بنا رہا۔یعنی عیسائیت کے رومن کیتھولک کے فرقہ مارونیہ ( جس کی لبنان میں اکثریت ہے ) کے پیٹری آرک (بشپ) مشرق و انطاکیہ نے ایک مجلس میں اعلان کر دیا کہ سب اہل مذاہب کا دعویٰ ہے۔کہ انہی کا مذہب سچا ہے اگر وہ اس دعوے میں سچے ہیں تو میرے ساتھ مباحثہ و مناظرہ کریں تا حقیقت آشکارا ہو جائے کہ کیا ان کے مذاہب سچے