مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 285
مصالح العرب۔۔۔جلد اوّل 267 آخر میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ احمدیت کے بیرونی مشنوں اور ریویو آف ریلیجنز انگریزی واُردو کے ذکر کے بعد لکھا: "أفلا يجب على المسلمين والحال هذه أن يزيلوا عن أذهان أهل أوروبا وأمريكا تلك العقائد الفاسدة التي يعتقدونها في دينهم ونبيهم هذا فرض على أمراء المسلمين وعلمائهم وأغنيائهم وفقرائهم أيضا فمن ذا الذى يقوم اليوم بتبديد تلك الأوهام؟ لا أحد إلا القاديانيون وحدهم ، هم الذين يبذلون في ذلك الأموال والأنفس ولو قام المصلحون يصيحون حتى تبح أصواتهم ويكتبون حتى تنكسر أقلامهم ما جمعوا من الأموال والرجال في جميع الأقطار الإسلامية عشر ما تبذلها هذه الشرذمة القليلة “ کیا ان حالات میں مسلمانوں پر واجب نہیں کہ اہل یورپ و امریکہ کے ذہنوں سے وہ فاسد خیالات دور کریں جو وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق رکھتے ہیں۔یقیناً واجب ہے اور یہ مسلمانوں کے سلاطین، علماء، اغنیاء اور فقراء کا فرض ہے۔مگر کون ہے جو ان اوہام کو دور کرنے کے لئے جدو جہد کر رہا ہو؟ ہر گز کوئی نہیں۔صرف اکیلے احمدی ہیں جو اپنے اموال اور جانوں کو اس راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔ہاں اگر مسلمانوں کے زعماء اور مصلحین کھڑے بھی ہوں اور چلاتے چلاتے ان کی آواز بیٹھ جائے اور لکھتے لکھتے انکے قلم ٹوٹ جائیں تب بھی وہ تمام اسلامی دنیا سے مال اور مردانہ وار کارناموں کے لحاظ سے اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کر سکتے جس قدر یہ چھوٹی سی جماعت خرچ کر رہی ہے۔( اخبار الفتح 20 جمادی الآخر 1351ھ مطابق 22 اکتوبر 1932ء ،الفضل 25 دسمبر 1932 صفحہ 5-6، بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 4 تا 6 ) اسی طرح جامعہ ازہر کے ماہوار رسالہ ” نور الا سلام“ نے بھی انہی دنوں لکھا کہ : للقاديانية حركة نشيطة فى الدعوة إلى نحلتهم ولما كانوا يقيمون هذه النحلة على شيء من تعاليم الإسلام أمكنهم أن يدعوا أنهم دعاة الإسلام ---- بعثوا بدعاتهم إلى سورية وفلسطين ومصر وجدة والعراق وغيرها من الإسلامية --- كثيرا