مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 253 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 253

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 237 مبارک باد دی۔اور پادری صاحب نے ہمارے چلے آنے کے بعد ایک شخص سے کہا کہ در حقیقت قَدْ فَشِلْتُ الْيَوْمَ آج میں ہار گیا۔تیسرا مناظرہ حسب خواہش پادری مذکور دوبارہ معصومیت انبیاء ومسیح از روئے بائبل پر ہوا۔اس دن مجمع میں ہیں کے قریب غیر احمدی تھے۔دو گھنٹے تک مناظرہ ہوا۔آخر پادری مذکور کو ایک تحریر دینی پڑی کہ فلاں فلاں نبی کا کوئی گناہ از روئے بائبل ثابت نہیں۔یہ مناظرہ بھی کامیابی سے ختم ہوا۔چوتھا مناظرہ اس موضوع پر ہوا کہ کیا یسوع مسیح صلیب پر فوت ہوئے؟ یہ مناظرہ احمدیہ دار التبلیغ کے وسیع کمرہ میں ہوا جس میں 70 سے زائد اشخاص موجود تھے۔ازہر کے تعلیم یافتہ وکیل تاجر اور سرکاری ملازم بھی شریک ہوئے۔ڈاکٹر فلپس اس دن اپنے ہمراہ دو اور پادریوں کو مدد کے لئے لائے تھے۔حسب قرارداد پہلے میں نے نصف گھنٹہ از روئے بائبل ثابت کیا کہ یسوع مسیح صلیب پر ہر گز فوت نہیں ہوئے۔اور انجیل نویسوں کے بیانات میں بکثرت اختلافات ہیں۔اس کے جواب کے لئے پادری کامل منصور کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ مسلمان تو کہتے ہیں مسیح صلیب پر لٹکائے ہی نہیں گئے۔لیکن احمدی ان کے خلاف یہ مانتے ہیں کہ مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا مگر مرا نہیں۔اور پھر کہا: دراصل میں اس مضمون کے لئے تیار ہو کر نہیں آیا۔غرض بغیر اس کے کہ ایک دلیل کو بھی چھوتا لوگوں کو ابھارنا چاہا۔اور وقت ختم ہونے سے پہلے ہی بیٹھ گیا۔میں نے جوابا کہا: غالبا پادری صاحب مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔مگر یہ ان کی نافہمی ہے۔کیا یہ لوگ احمدیوں کا عقیدہ نہیں جانتے؟ تمہیں اس سے کیا کہ ہمارا اور مسلمانوں کا اختلاف ہے؟ تم مسیح کی صلیبی موت کا ثبوت دو۔کیونکہ بحث از روئے بائبل ہے اس لئے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کا اس میں کیا دخل ہے۔میری تقریر کے بعد پادری کامل منصور صاحب تو مبہوت ہو گئے۔پھر پادری فلپس کھڑے ہوئے مگر بجز پولوس کے بعض اقوال پڑھنے کے کچھ نہ کر سکے۔آخر پر پادری ایلڈ راٹھے اور غضبناک ہو کر کہنے لگے کہ ہم سینکڑوں سالوں سے مانتے چلے آئے ہیں کہ یسوع صلیب پر مر گیا اب یہ نیا مذہب پیدا ہو گیا ہے۔نہایت محبت سے جواب دیا گیا کہ ناراضگی سے تو کچھ بنتا نہیں۔اور عقیدہ خواہ کروڑوں سال سے ہو جب غلط ثابت ہو جائے تو اس کا چھوڑ نا ضروری ہے۔غرض یہ مناظرہ بھی نہایت کامیاب ہوا۔اللہ تعالیٰ نے خاص نصرت فرمائی۔اختتام پر ایک شدید مخالف نے شکریہ ادا کیا۔