مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 254 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 254

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 238 ایک ازہری نے کہا کہ بخدا اگر تمام علماء از ہر مل کر بھی ایسا مناظرہ کرنا چاہیں تو نہ کرسکیں۔پادری کامل منصور نے مجھ سے جاتے وقت کہا کہ آپ نے تو مسیحیت کا ہم سے بھی زیادہ مطالعہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مناظرہ کا چرچا عام ہوا اور دور دور تک اس کا ذکر پہنچا۔الحمدللہ۔مسجد سید نا محمود کبابیر حضرت مولانا نے اپنی ایک رپورٹ مطبوعہ الفضل میں تحریر فرمایا: فلسطین میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ارض مقدسہ میں کوہ کر مل کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔الیاس نبی علیہ السلام کا مقام اسی پہاڑ پر ہے۔خضر کے نام پر بھی ایک مقام اس جگہ موجود ہے۔غرض یہود ونصاری اور مسلمانوں کا کسی نہ کسی رنگ میں اس پہاڑ سے خاص تعلق ہے۔اس پہاڑ پر کہا بیر کی بستی آباد ہے۔اس بستی کے باشندوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ بلاد عربیہ میں سب سے پہلے بحیثیت مجموعی قریبا سارا گاؤں احمدیت میں داخل ہوا ہے۔یہ جگہ ایک خوشنما محل وقوع اور سرسبز جگہ پر واقع - مسجد بنانے کا عزم ہے۔کوه کرمل پر عیسائیوں کے گرجے ہیں۔یہودیوں کی عبادت گاہیں ہیں۔لیکن مسلمانوں کی کوئی مسجد نہ تھی۔آج سے تین برس پیشتر جماعت احمد یہ کہا بیر اور حیفا نے ایک نہایت موزوں محل پر مسجد بنانے کا عزم کیا۔اس ملک کے اخراجات کے پیش نظر اس جگہ مسجد بنانا قریباً طاقت سے بڑھ کر بوجھ تھا کیونکہ ان علاقوں میں جماعتیں ابھی ابتدائی حالت میں ہیں۔اور مالی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔لیک اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے جس نے محض اپنے فضل سے غریب جماعت کو عظیم الشان مسجد قائم کرنے کی توفیق بخشی۔مسجد کا افتتاح مؤرخہ 13 اپریل 1931ء بروز جمعہ جناب مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی