مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 191
179 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول جس ڈاکٹر نے مکرم شمس صاحب کا علاج کیا وہ عیسائی تھا۔اور عیسائیوں کے ساتھ مناظروں کی وجہ سے یہ عیسائی ڈاکٹر خاص طور پر مکرم شمس صاحب کی حالت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ابتدا میں حالت بہت خطرناک تھی اور ڈاکٹر نے ایک رات کہا کہ اگر آج کی رات خیر وعافیت سے گزر گئی تو پھر خطرہ ٹل جائے گا۔منیر الھنی صاحب کہتے ہیں کہ اگلے دن جب میں ہسپتال گیا تو اس عیسائی ڈاکٹر نے حیرت زدہ ہو کر کہا کہ آج کی رات معجزہ کیونکہ شمس صاحب کی حالت یکدم بہت بہتری کی طرف مائل ہو گئی ہے اور اب ان ہوا ہے۔کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔جب ہم سلسلہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان معجزات کے پیچھے خلیفہ وقت اور افراد جماعت کی عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں کا آسمانی حربہ کار فرما ملتا ہے۔آئیے دیکھیں ان دنوں میں قادیان میں کیا ہوا۔22 دسمبر 1927 کو مولانا شمس صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا اور 24 /دسمبر کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں دو تار موصول ہوئے۔ایک دمشق سے مولانا جلال الدین صاحب شمس پر قاتلانہ حملہ میں زخمی ہونے کے بارہ میں تھا جبکہ دوسر اسماٹرا کے مبلغ مولوی رحمت علی صاحب کی طرف سے تھا جس میں انہوں نے مخالفین جماعت کے ساتھ مباحثہ میں کامیاب ہونے کے لئے دعا کی درخواست کی تھی۔حضور کے ارشاد کے ماتحت اس تار کا اعلان اسی وقت بورڈ پر لگا دیا گیا جس میں مولانا جلال الدین شمس صاحب کی صحت کے لئے دعا کی تحریک کی گئی تھی۔پھر حضور نے اعلان کرا دیا کہ احباب بارہ بجے مسجد اقصیٰ میں جمع ہوں جہاں مل کر دعا کی جائے گی۔دسمبر کے ایام ہونے کی وجہ سے ایک خاصی تعداد جلسہ میں شمولیت کی غرض سے آنے والے احمدی احباب کی بھی تھی جو سب مسجد میں جمع ہو گئے۔حضور نے تشریف لا کر مختصرسی تقریر فرمائی۔جس میں فرمایا: آج دو تاریں دو مختلف علاقوں کے مبلغوں کی طرف سے آئی ہیں۔چونکہ یہ ایک رنگ میں قومی اہمیت رکھتی ہیں اس لئے میں نے دوستوں کو اس جگہ جمع کیا ہے تا کہ انہیں سنائی جائیں اور احباب مل کر دعا کریں۔“ اس کے بعد حضور نے دمشق کے بعض حالات بیان فرمائے۔اس کے بعد فرمایا: غرض مولوی جلال الدین صاحب کی پچھلی رپورٹوں سے معلوم ہورہا تھا کہ مولویوں کی