مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 190
178 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول یہ محسوس کیا کہ مجھے کوئی پیچھے سے پکڑنا چاہتا ہے۔جب میں نے اس سے بھاگنے کی کوشش کی تو می اس نے زور سے خنجر میری کمر میں مارا۔اس ضرب کو میں نے محسوس کیا۔میرے ہمسایہ کا دروازہ کھلا تھا اس میں جلدی سے داخل ہو گیا اور انہیں کہا: دیکھو مجھے کسی نے خنجر سے مارا ہے۔آخر وہ اترے اس وقت خون زور سے یہ رہا تھا۔میں اپنے مکان کے دروازے میں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔پولیس پہنچ گئی اور آدھ گھنٹہ تقریبا اپنے کاغذات وغیرہ پر کر کے مجھے ہسپتال میں لائے“۔الفضل 7 فروری 1928ء صفحہ 7-8 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اوّل صفحہ 183 تا 186 ) شدید سردی کا موسم ہونے کی وجہ سے شمس صاحب نے ایک موٹا کوٹ پہن ہوا تھا جس کی وجہ سے خنجر کا زخم گہرا تو رہا لیکن دل تک نہ پہنچ سکا۔آپ زمین پر گر گئے ، ہمسایوں نے آ کر آپ کو ہسپتال منتقل کیا۔جب مکرم منیر الحصنی صاحب کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ فورا ہسپتال پہنچے اور بمشکل اجازت لے کر جب اس کمرے میں داخل ہوئے جس میں مولانا شمس صاحب زیر علاج تھے تو آپ کو مولا نائمس صاحب نے فرمایا: میرے کمرے میں جاؤ، اس میں فلاں جگہ پر سونے کی اشرفیاں پڑی ہوئی ہیں وہ لے جاؤ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو قادیان میں دعا کے لئے تار بھیج دو۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مکرم مصطفیٰ نویلاتی صاحب کے والد صاحب کی طرف سے امام مہدی علیہ السلام کو بطور ہدیہ دی گئی ان اشرفیوں سے حضور کی خدمت میں دعا کی تار ارسال کی۔اور اللہ تعالیٰ نے مولانا شمس صاحب کو معجزانہ طور پر شفا عطا فرمائی۔( مقالات وردود احمدیت از نذیر مرادنی صفحه 25-26 - مکرم طه قزق صاحب آف اردن کی بلا د شام میں احمدیت کے بارہ میں غیر مطبوعہ یادداشتیں)۔۔۔۔اور خطرہ ٹل گیا خاکسار عرض کرتا ہے کہ دمشق میں بغرض تعلیم قیام کے دوران خاکسار نے یہ واقعہ مکرم ابوالفرج الحصنی صاحب ( جو مکرم منیر اٹھنی صاحب کے بھتیجے ہیں ) سے تفصیلاً سنا تھا۔آخری حصہ کے بارہ میں انہوں نے بتایا کہ مکرم منیر احصنی صاحب کا بیان ہے کہ: