مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 184 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 184

172 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول پر میں نے دستخط کئے اور وہ درخواست بادشاہ کے سامنے پیش ہوئی جس پر انہوں نے مجلس کو غور کرنے کا حکم دیا اور اس طرح یہ درخواست تین ماہ تک دفتروں میں چکر لگاتی رہی اور کئی مایوسیوں کے بعد ایک شام مغرب کی نماز سے ہم دوست فارغ ہوئے تھے کہ سرکاری اردلی پیغامبر نے آکر جعفر صادق مرحوم امیر جماعت احمد یہ بغداد کو ایک لفافہ دیا۔وہ کھولا گیا۔اس میں بادشاہ کی مہر کے ساتھ وزارت داخلہ کی طرف سے یہ اطلاع تھی کہ بادشاہ کی طرف سے ان کا سابقہ حکم منسوخ کر دیا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کو مکمل ( مذہبی ) آزادی دی جاتی ہے۔یہ الفاظ پڑھ کر جو دوست نماز مغرب میں حاضر تھے بے اختیار سر بسجو د ہو گئے کیونکہ ان کی مایوسی کی حالت آخری نقطہ یاس تک پہنچ چکی تھی۔شاہ صاحب کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے فرمایا: ” میرے نزدیک شاہ صاحب نے اس سفر میں ایک بڑا کام کیا ہے۔۔۔وہ عراق کے متعلق ہے۔سیاستا یہ ایک ایسا کام ہے کہ جو دور تک اثر رکھتا ہے۔ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ کوشش کر چکے تھے مگر پھر بھی اجازت نہ حاصل ہوئی تھی۔وہاں سے ہمارے کئی آدمی اس لئے نکالے جاچکے تھے کہ وہ تبلیغ کرتے تھے۔اپنے گھر میں جلسہ کرنا بھی منع تھا۔ان حالات میں کوشش کر کے کلی طور پر روک اٹھا دینا بلکہ وہاں ایسے خیالات پیدا ہو جانا جو ان کے دل میں ہمدردی اور محبت ثابت کرتے ہیں بہت بڑا کام ہے۔یہ کام اس قسم کا ہے کہ سیاسی طور پر اس کے کئی اثرات ہیں۔اس سے سمجھا جائے گا کہ احمدی قوم حکومتوں کی رائے بدلنے کی قابلیت رکھتی ہے۔پس شاہ صاحب نے یہ بہت بڑی خدمت کی ہے۔“ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 523-524 - مجلۃ البشری جنوری، فروری 1937 ء صفحہ 50 تا 52) ایک وضاحت سلسلہ کے لٹریچر میں یہ بھی لکھا ہوا موجود ہے کہ حضرت ولی اللہ شاہ صاحب نے اس سفر بطرف دمشق اور عراق میں اس تاریخی تبلیغی مساعی کے لئے دو سال قیام کیا۔لیکن تاریخی واقعات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مولا نا جلال الدین صاحب شمس کے ہمراہ 27 جون 1925ء کو روانہ ہو کر 17 جولائی 1925ء کو دمشق پہنچے۔اور وہاں سے 1926ء کے شروع میں بغداد چلے گئے۔وہاں پر اپنے مفوضہ کام نپٹانے کے بعد 10 مئی 1926ء کو