مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 183
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 171 راستے میں آسوری قبائل میں گذر ہوا۔انہیں پیغام احمدیت پہنچاتے ہوئے تربیتی رسالہ الحقائق عن الاحمدیہ تقسیم کرتے ہوئے دسویں دن ہم بغداد پہنچے۔بغداد میں میرے قدیم دوست اور نہایت ہی محبّ دوست مرحوم رستم حیدر تھے جو صلاح الدین ایوبیہ کالج میں ناظم الدروس تھے اور تاریخ عام کے پروفیسر تھے۔یہ سور بون یو نیورسٹی (فرانس) کے تعلیم یافتہ اور بہت قابل تھے۔زبان عربی کے بھی ادیب تھے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں میری بہت ہی محبت اور عزت ڈال دی۔انہیں بغداد میں میری آمد پر بڑی خوشی ہوئی۔کئی دعوتیں انہوں نے کیں جن میں شہر کے معزز دوست مدعو کئے جاتے رہے۔وہ وہاں وزیر دیوان تھے۔وزراء حکام اور علماء سے تعارف ہوا۔ملک فیصل مرحوم کے سوالات یہاں تک کہ ملک فیصل نے بھی مجھے دعوت دی اور اس دعوت میں بھی چیدہ لوگ مدعو تھے۔دوران طعام رستم حیدر نے احمدیت کا ذکر تعریفی رنگ میں کیا اور احمدیت کے متعلق ملک فیصل مرحوم نے سوالات کئے۔جنگ عظیم کے دوران بھی ان کا تعارف مجھ سے ہو چکا تھا۔جب دجال سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی تو انہوں نے مجھ سے آیت لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ ( سورۃ انعام : 104 ) کا مفہوم دریافت کیا۔میرے جواب دینے سے پہلے وہ اپنے بھائی علی سے مخاطب ہوئے اور کہا بھائی آپ بڑے عالم ہیں۔آپ اس آیت سے کیا سمجھتے ہیں؟ تفاسیر میں جو انہوں نے پڑھا تھا وہ بیان کیا پھر ملک صاحب مرحوم مجھ سے مخاطب ہوئے کہ میں اس سے کیا سمجھتا ہوں۔میں نے مفصل جواب دیا جس پر وہ اتنے خوش ہوئے کہ بے اختیار کہنے لگے کہ اگر اسلام کے لئے دوبارہ زندگی مقدر ہے تو وہ ان خیالات کے ذریعہ ہے جن کا میں نے اظہار کیا ہے۔کھا ناختم ہوا میں نے فورا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا:۔آپ کی مملکت میں ہر مذہب کو تبلیغ کی آزادی ہے حتی کہ آریہ جیسے شدید دشمن اسلام کے لئے بھی اور اگر آزادی نہیں تو اس جماعت کیلئے نہیں جس کے خیالات کے متعلق بادشاہ کی ،، نے یہ داد دی ہے۔میز سے اٹھتے ہوئے فرمایا آپ کو ان سے بڑھ کر آزادی ہوگی اس کے بعد جب رستم حیدر مجھے اپنے مکان پر لائے تو اپنے سیکرٹری سے ایک درخواست عربی میں ٹائپ کروائی جس