مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 185 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 185

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 173 واپس قادیان تشریف لے گئے۔یوں یہ کل عرصہ تقریبا ساڑھے دس ماہ کا بنتا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔جماعت دمشق کے پہلے چندہ جلسہ سالانہ کی ادائیگی کا اچھوتا انداز 1926ء کے جلسہ سالانہ کے لئے دمشق کی جماعت سے پہلی دفعہ چندہ جلسہ سالانہ ارسال کیا گیا۔لیکن اس کے ادا کرنے کا انداز نرالا اور دلنشین ہے۔اس کا ذکر مولانا جلال الدین صاحب شمس نے حضرت میر محمد اسحاق صاحب ناظر ضیافت قادیان کے نام اپنے ایک خط میں کیا جسے خلاصیۂ نقل کیا جاتا ہے۔لکھتے ہیں: ارادہ تھا کہ جماعت احمد یہ دمشق بھی جلسہ سالانہ میں حصہ لیوے۔اس بناء پر گزشتہ سال جو حضور نے فہرست اشیاء معہ قیمت اخبار الفضل میں شائع کی تھی مطالعہ کی۔اس میں سے موم بتیوں کو انتخاب کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: اختار ذكر لفظ المنارة إشارةً إلى أن أرض دمشق تنير وتشرق بدعوات المسيح الموعود۔(یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح کے سفید منارہ پر نزول والی حدیث میں لفظ منارہ کا اس لئے استعمال کیا کیونکہ سرزمین دمشق مسیح موعود کی دعاؤں کے نور سے منور اور روشن ہو جائے گی۔) اس لئے نورانی چیز کا انتخاب کیا۔(ماخوذ از الفضل 26 /نومبر 1926ء صفحہ 2 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اول صفحہ 236-237) مکرم منیر الحصنی صاحب کا قبول احمدیت حضرت ولی اللہ شاہ صاحب نے دمشق میں چھ ماہ کے قریب عرصہ قیام فرمایا۔آپ چونکہ قبل از میں بیت المقدس میں کلیتہ صلاح الدین الایوبی میں تدریس کے فرائض سر انجام دے چکے تھے اور کئی سال اس سرزمین پر قیام فرما چکے تھے اس لئے آپ کے دوستوں، شاگردوں اور واقف کاروں کا حلقہ بیت المقدس اور شام میں وسیع تھا جن سے آپ نے مولانا جلال الدین صاحب شمس کا تعارف کر وا دیا۔ان میں سے ایک بزرگ شخصیت جناب منیر احصنی صاحب کی تھی۔آپ خود لکھتے ہیں کہ :