مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 182 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 182

170 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول عورتیں اور مرد جمع ہوئے اور اتفاق سے اس رات ایک بجے تک بارش ہوتی رہی۔اس لئے گفتگو کرنے کا بڑا موقع ملا۔سب نے اطمینان سے سوالات کئے ، اور اطمینان سے جوابات سنے۔ان کا آخری سوال الہام اور وحی سے متعلق تھا۔اور دوران گفتگو میں ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کلمات الہام جو حضرت احمد پر نازل ہوئے تھے وہ سنائیں۔مجھے کافی یاد تھے میں نے سنانے شروع کئے۔سامعین میں میرے قریب ہی ایک بہت ہی بوڑھے قسیس سفید ریش بیٹھے تھے ، کمر کمان کی طرح، پادریوں میں ان کا منصب بہت بڑا تھا، جیسا کہ ان کے عصا اور کمر کی ڈوری اور نشانات سے ظاہر تھا۔ان کے ابرو جھکے ہوئے ، شکل متبرک انسان کی سی۔وہ اپنے عصا کا سہارا لیتے ہوئے اٹھے۔اور دائیں بائیں سامعین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے: هؤلاء بناتي وأبنائى يعلمون جيدا أني لم أداهن في حياتي قط فها إني أشهد هؤلاء فإني آمنت بالمسيح الثاني كما آمنت بالمسيح الأول ( یہ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں جو بخوبی جانتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی مداہنت نہیں کی۔پس میں آج ان تمام لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جس طرح میں مسیح اول پر ایمان لاتا ہوں ایسا ہی مسیح ثانی پر ایمان لاتا ہوں۔ناقل ) اور یہ کہہ کر بڑے وقار اور خاموشی سے بیٹھ گئے اور ہال میں سناٹا چھا گیا۔ایک صوفی منش بزرگ بارش مدہم ہو چکی تھی اور ایک کونے میں ایک صوفی منش بزرگ ہماری باتیں سن رہے تھے۔عیسی خوری صاحب نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ یہ عالم اور صوفی ہیں اور ان کے بچپن کے دوست اور کہا : آپ کی کتابیں میں نے ان کو پڑھا دی ہیں۔یہ آپ کے خیالات سے متفق ہیں اور آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی جماعت میں داخل ہونے کی کیا شرائط ہیں؟ میں نے مکرم شمس صاحب کا پتہ دیا اور آخران کے ذریعہ وہ جماعت میں داخل ہو گئے۔( حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، تالیف احمد طاہر مرزا صفحہ 33 تا 36 ) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں: دوسرے دن ہم تقریر کرنے کے بعد معہ اہلیہ اور برادر نسبتی بغداد کی طرف روانہ ہوئے۔