مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 181 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 181

169 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول چنانچہ انہوں نے پانچ دن ٹھہرایا۔کثرت سے عیسائی مرد اور عورتیں ملاقات کے لئے آتے۔دلچسپی سے میری باتیں سنتے عیسی خوری صاحب میری شائع شدہ کتابیں: 1) الخطاب الجليل (2) التعليم، کشتی نوح کا ترجمہ) ،3) كتاب حياة المسيح ووفاته، اور 4) الحقائق عن الأحمدية اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ہفتہ کی شام کو میں حمص پہنچا تھا اگلی صبح وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گرجے میں لے گئے جو فتح حمص سے قبل عیسائیوں کے قبضہ ہی میں رہا۔ان کی عورتیں بھی ساتھ تھیں جنہوں نے اسلامی طرز کا پردہ کیا ہوا تھا۔عیسی خوری صاحب عبادت کے بعد مراقبہ کے لئے ایک الگ حجرہ میں گئے۔میں ایک طرف کھڑا تھا کہ عربی طرز کے لباس میں خوش پوش خوش شکل چند نوجوان میرے پاس آئے۔اور مجھ سے پوچھا: حضرتك أيضا من أتباع المسيح؟ کیا آپ بھی مسیح کے ماننے والے ہیں؟ )۔میں نے کہا: أى نعم، آمنتُ بالمسي الأول والمسيح الثانی۔جی ہاں، میں مسیح اول اور مسیح ثانی دونوں پر ایمان لاتا ہوں) تو ان میں سے ایک نے کہا: وحضرتك من الأحمديين؟ ( كيا آ۔آپ احمدی ہیں؟ میں نے کہا: أنا أحمدی ( میں احمدی ہوں ) اور ان سے پوچھا آپ جانتے ہیں کہ احمدی کون ہیں؟ کہنے لگے ہاں ان کے دو مربی دمشق میں آئے ہوئے ہیں اور ہمارے عیسی خوری صاحب ان سے مل کے آئے ہیں۔اور ان کی کتابیں بھی لائے ہیں۔اور وہ کتابیں درسا پڑھ کے سنائی ہیں۔میں نے پوچھا ان کتابوں کے متعلق ان کی کیا رائے ہے؟ وہ کہنے لگے بخدا باتیں تو بالکل سچی ہیں اور ان میں ہماری کتابوں ہی کے حوالے ہیں یعنی انجیل وغیرہ کے۔اور عیسی خوری صاحب احمدیوں کے خیالات کی تعریف کرتے ہیں۔ان کی میں سے ایک نوجوان نے کہا : کیا آپ سید زین العابدین کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ میں اسے جانتا تو ہوں۔جب پانچویں دن عیسائیوں کے ایک مدرسہ میں میری تقریر کا انتظام ہوا تو وہ نوجوان بھی مجھے ملے اور ہنس کر کہا : جواب تو آپ نے ٹھیک دیا تھا کہ آپ سید زین العابدین کو جانتے ہیں۔آمنتُ بالمسيح الثاني اس سے گزشتہ رات عیسی خوری صاحب کے ہال میں جو بہت وسیع کمرہ تھا عیسائی