مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 180 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 180

168 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول موجود نہ تھا۔ہندوستانی احمدی انفرادی طور پر تبلیغ میں مصروف رہتے تھے۔لیکن حکومت عراق نے وہاں تبلیغ احمدیت کی ممانعت کر دی اور ان کے پرائیویٹ اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو ہدایت فرمائی کہ وہ ہندوستان واپس آتے ہوئے عراق کے راستہ سے آئیں اور ان ناروا پابندیوں کے اٹھائے جانے کے لئے کوشش کریں۔چنانچہ حضرت شاہ صاحب اوائل 1926ء میں بغداد پہنچے، اس سفر کی ابتداء میں آپ شام کے شہر حمص تشریف لے گئے جہاں عیسائیت کے بڑے بڑے علماء اور عربی زبان کے ادباء میں بڑے مؤثر انداز میں تبلیغ کی۔آپ کی اس مساعی کا ذیل میں مختصر ا تذکرہ کیا جاتا ہے۔يَا قَلْبِي اذْكُرُ أَحْمَدَا حمص میں آپ نے مرحوم عیسی خوری کے ہاں جو بہت بڑے ادیب اور مؤرخ تھے قیام کیا۔آپ فرماتے ہیں: یہ سب سے بڑے گرجے کے نگران قسیس تھے۔خوری صاحب اس سے قبل بمعہ تین عیسائی ادباء کے مجھ سے دمشق ملنے آئے تھے، کہا کہ وہ تحقیق کی غرض سے آئے ہیں۔اخباروں میں میرے بعض مقالات پڑھے ہیں۔دوران گفتگو عیسی خوری نے بتایا کہ مصر کے کسی رسالہ یا اخبار میں دیر ہوئی انہوں نے پڑھا تھا کہ اصل میں عالم تو نور الدین (حضرت خلیفہ اسیح الأول رضی اللہ عنہ ) ہیں جنہوں نے حجاز میں تعلیم حاصل کی اور خود بانی سلسلہ احمدیہ کی تعلیم معمولی ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے ہم سے پوچھا کہ ان دونوں کا کوئی کلام عربی میں ہے جسے دیکھ کر وہ اندازہ کر سکیں؟ شمس صاحب نے قصیدہ خلیفہ اول جو براہین احمدیہ کی تعریف میں ہے انہیں دیا۔چند شعر پڑھ کر انہوں نے کہا اس میں وزن کے لحاظ سے فلاں فلاں نقص ہے۔میں ن يَا قَلْبِيَ اذْكُر أَحْمَدَا کا قصیدہ ان کے سامنے رکھا اور بتایا کہ یہ قصیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے۔انہوں نے شعر پڑھنے شروع کئے اور پڑھتے چلے گئے۔حتی کہ وجد میں آگئے۔بے اختیار کہنے لگے: یہ تو اعلیٰ درجہ کی عربی ہے۔ملاقات کے آخر میں عیسی خوری صاحب اور ان کے ساتھیوں نے باصرار دعوت دی کہ میں حمص آؤں۔عیسی خوری صاحب نے کہا میں ان کا مہمان ہوں گا۔