مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 172 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 172

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 160 دار التبلیغ شام وفلسطین حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے اپنے سفر یورپ سے واپسی کے بعد 1925ء میں شام میں نیا دار التبلیغ کھولنے کے لئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو روانہ فرمایا۔چنانچہ یہ دونوں بزرگ 27 /جون 1925ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور 17 / جولائی 1925ء کو دمشق پہنچے۔مبلغین کے لئے اہم نصائح ان دونوں بزرگوں کو الوداع کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جو نصائح فرمائیں وہ مبلغین کے لئے خصوصاً اور افراد جماعت کے لئے عموماً مشعل راہ ہیں۔حضور نے فرمایا: اہل عرب کے ہم پر بہت بڑے احسان ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ ہم تک اسلام پہنچا۔ہمارا رونگٹا رونگٹا ان کے احسان کے نیچے دبا ہوا ہے۔ان کا بدلہ دینے کے لئے ہمارے یہ مبلغ وہاں جارہے ہیں۔ان میں سے سید ولی اللہ شاہ صاحب پر دوہری ذمہ داری ہے۔کیونکہ انہوں نے علم بھی اس ملک سے حاصل کیا ہے۔اب ان کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ان لوگوں کو روحانی علم دیں۔مگر ساتھ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ مبلغ کی حیثیت سے نہیں جار ہے بلکہ مدبر کی حیثیت سے جارہے ہیں۔ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس ملک میں کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے۔مبلغ کی حیثیت سے مولوی جلال الدین صاحب جا رہے ہیں۔ان کو اسی مقصد کے لئے اپنا وقت صرف کرنا چاہئے تا کہ ان کے جانے کا مقصد فوت نہ ہو جائے۔ان کا یہ کام ہے کہ ان کے ذریعہ جو جماعت خدا تعالیٰ پیدا کرے اس کا تعلق مرکز سے اس طرح قائم کریں جس طرح