مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 173
۔۔۔۔۔۔161 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول عضو کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری ترقی ہی موجب تیل ہوگی۔۔۔۔پس مبلغین کا سب سے مقدم فرض یہ ہے کہ احمدیت میں داخل ہونے والوں کا آپس میں ایسا رشتہ اور محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں جس کی وجہ سے ساری جماعت اس طرح متحد ہو کہ کوئی چیز اسے جدا نہ کر سکے۔اگر شامی احمدی ہوں تو انہیں یہ خیال نہ پیدا ہونے دیں کہ ہم شامی احمدی ہیں ، اسی طرح جو مصری احمدی ہوں ان کے دل میں یہ خیال نہ ہونا چاہئے کہ ہم مصری احمدی ہیں کیونکہ مذہب اسلام وطنیت کو مٹانے کے لئے آیا ہے۔اس لئے نہیں کہ حب وطن مٹانا چاہتا ہے۔اسلام تو خود کہتا ہے حب الوطن ایمان کی علامت ہے۔مگر وہ وطن کو ادنیٰ قرار دیتا ہے اور اس سے اعلیٰ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ ساری دنیا کو اپنا وطن سمجھو۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انسانیت کو وطن سمجھو۔دنیا سے مراد تو وہ انسان ہوتے ہیں جو زندہ ہوتے ہیں مگر انسانیت سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو پہلے گزر چکے اور آئندہ آئیں گے۔ایک مسلمان کا کام جہاں پہلوں کی نیکیوں کو قائم کرنا اور ان کے الزامات کو مٹانا ہوتا ہے وہاں آئندہ نسلوں کے لئے سامان رشد پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔اس کے لئے انسانیت ہی سمح نظر ہو سکتی ہے۔پس ہمارے مبلغوں کو یہ مقصد مد نظر رکھ کر کھڑا ہونا چاہئے اور 66 ہمیشہ اسی کو مدنظر رکھنا چاہئے۔“ حضرت حافظ روشن علی صاحب کی نصیحت تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 522-523) اس موقعہ پر مولانا شمس صاحب کو آپ کے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب نے بھی چند نصائح فرما ئیں جن میں سے ایک یہ تھی: " قائم مقام پیدا کرنے کی ہر وقت کوشش کرنا۔اس کے واسطے کسی اچھے شخص کو منتخب کر کے اس سے خاص دوستی کرنا کہ اگر تمہارے جسم کو روح سے علیحدہ کیا جائے تو فوراً وہ روح دوسرے جسم کے ساتھ کام کرنے لگ جائے۔“ حضرت مولانا شمس صاحب فرماتے ہیں: میں نے حتی الامکان اپنے استاد مرحوم کی ان ہدایات کو مدنظر رکھا اور شام کے علاقہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا دوست عطا کر دیا ( یعنی سید منیر الکھنی صاحب) جن کو میں نے اپنے استاد مرحوم کی ہدایت کے مطابق تیار کیا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل۔