مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 162
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 154 آئے۔منارہ بیضاء کے پاس نزول کے معاملہ میں تو آپ نے خود فرمایا کہ میرے یہاں آنے سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی کیونکہ بعض اوقات باپ سے متعلقہ پیشگوئیاں بیٹے یا خلیفہ کے ذریعہ بھی پوری ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں ایک امر کا ذکر خود حضور نے یوں فرمایا: غرض عجیب رنگ تھا۔کالجوں کے لڑکے اور پروفیسر آتے ، کا پیاں ساتھ لاتے اور جو میں بولتا لکھتے جاتے۔اگر کوئی لفظ رہ جاتا تو کہتے یا استاذ ذرا ٹھہرئیے یہ لفظ رہ گیا ہے۔گویا انجیل کا وہ نظارہ تھا جہاں اسے استاذ کر کے حضرت مسیح کو مخاطب کرنے کا ذکر ہے۔اس سفر کے واقعات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ صرف حضورڑ کا ہی شعور نہیں تھا کہ لوگوں کے يَا أَستاذ ، یا اُستاذ کے الفاظ سے حضرت مسیح اور آپ کے حواریوں کی مجلس کا گمان ہوتا ہ تھا، بلکہ حضور کے اس سفر یورپ کے آغاز میں ہی 20 / جولائی 1944 ء کو جب حضور نے اپنے رفقاء کے ساتھ نماز عصر پڑھائی اور حضور انور ابھی مصلے پر ہی تشریف فرما تھے کہ جہاز کے ڈاکٹر نے (جس کا نام میںگلی تھا اور وہ اٹلی کا باشندہ تھا) حضور کی طرف اشارہ کر کے آہستہ سے کہا: Jesus Christ and twelve Disciples یعنی یسوع مسیح اور بارہ حواری۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کہتے ہیں کہ یہ سن کر میری حیرت کی کچھ حد نہ رہی کہ خدا تعالیٰ کیسا قادر ہے کہ پوپ کی بستی کا رہنے والا ایک نہایت سچی اور عارفانہ بات کہہ رہا ہے۔اسی طرح جب حضور اس سفر کے آخری مقام یعنی لندن پہنچے تو وہاں بھی ایک انگریز شخص نے بتایا کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ مسیح اپنے تیرہ حواریوں کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور آج آپ کو دیکھ کر میں سمجھتا ہوں کہ میرا خواب پورا ہو گیا ہے۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 437 تا 448۔انوار العلوم جلد 8 دورہ یورپ ) گورنر شام سے مبلغین احمدیت بھجوانے کا ذکر حضور انور بذریعہ موٹر شام کے گورنر کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے ان کا نام صحی بیگ تھا۔حضرت اقدس نے ان سے سلسلہ کا ذکر فرمایا اور یہ کہ ہم لوگ یہاں مبشرین بھیجنا چاہتے ہیں آپ کو ان کے متعلق کوئی اعتراض تو نہیں یا قانونا کوئی روک تو نہیں؟ اور اگر کوئی روک نہیں تو کیا آپ ہماری کچھ مدد کر سکیں گے،صرف اخلاقی مدد۔