مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 161
153 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول آ کر خود بنائیں گے۔اب ہمیں حیرت تھی کہ وہ کونسا منارہ ہے دیکھ تو چلیں۔صبح کو میں نے ہوٹل میں نماز پڑھائی اس وقت میں اور ذوالفقار علی خان صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے۔یعنی میرے پیچھے دو مقتدی تھے۔جب میں نے سلام پھیرا تو دیکھا سامنے منار ہے اور ہمارے اور اسکے درمیان صرف ایک سڑک کا فاصلہ ہے۔میں نے کہا یہی وہ منار ہے اور ہم اسکے مشرق میں تھے۔یہی وہ سفید منارہ تھا اور کوئی نہ تھا۔مسجد امویہ والے منار نیلے سے رنگ کے تھے۔جب میں نے اس سفید منارہ کو دیکھا اور پیچھے دو ہی مقتدی تھے تو میں نے کہا کہ وہ حدیث بھی پوری ہوگئی۔(ماخوذ از انوار العلوم جلد 8 دورہ یورپ۔تاریخ احمدیت جلد 4۴ صفحہ 438 تا 443) یہاں قارئین کرام کی یادہانی کے لئے عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب حمامۃ البشری میں مسیح کے منارہ بیضاء پر نزول والی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: "ثم يسافر المسيح الموعود أو خليفة من خلفائه إلى أرض دمشق، فهذا معنى القول الذى جاء في حديث مسلم أن عيسى ينزل عند منارة دمشق فإن النزيل هو المسافر الوارد من ملك آخر وفي الحديث - - یعنی لفظ المشرق - إشارة إلى أنه يسير۔إلى مدينة دمشق من بعض البلاد المشرقية وهو ملك الهند“۔( حمامة البشری، روحانی خزائن جلد 7 صفحه 225 ) یعنی پھر مسیح موعود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ سرزمین دمشق کا سفر اختیار کرے گا۔یہ ہے مسلم شریف کی اس حدیث کا معنی جس میں آیا ہے کہ عیسی دمشق کے منارہ کے قریب نازل ہوگا کیونکہ نزیل ایسے مسافر کو کہتے ہیں جو کسی دوسرے ملک سے آیا ہو۔اور حدیث شریف میں مشرق کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ ہے کہ وہ بعض مشرقی ممالک سے دمشق شہر کی طرف آئے گا اور یہ مشرقی ملک ہندوستان ہے۔وو وہ حسن واحسان میں تیرا نظیر ہوگا“ کا عظیم الشان جلوہ اس سفر میں متعدد امور میں حضور کی مسیح اول اور مسیح ثانی سے مشابہت کے واقعات پیش