مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 163 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 163

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 155 حضور کے تشریف لے جانے کے وقت اس کے پاس چند علماء اور رؤسا بھی موجود تھے۔بعض نے ہماری مخالفت کی اور کہا کہ ان لوگوں کو یہاں داخل نہ ہونے دینا چاہئیے اور بہت کچھ شور مچایا مگر ایک صاحب جو شاید کوئی بڑے جلیل القدر عہدے پر مامور تھے، آستینیں چڑھا کر کھڑے ہو گئے اور علماء مخالف کو مخاطب کر کے بڑے جوش سے بولے کہ تم لوگ عیسائیوں اور با بیوں کو تو آنے دو اور ان کا زہر تو ملک میں پھیلنے دو مگر نہ آنے دو تو ایک ایسی جماعت کو جو جان اور مال سے خدمت اسلام کی غرض سے گھروں سے نکلی ہے اور کسی سے کچھ نہیں مانگتی اور مفت خدمت دینِ اسلام کرتی پھرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس بزرگ کی تقریر ایسی جوشیلی اور پُر زور تھی کہ سب مخالفت دب گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔آخر گورنر نے بھی اس کی تائید کی اور کہا کہ اچھا آپ لوگ بتائیں کہ اگر یہ لوگ (احمدی) یہاں آ کر اپنا مدرسہ جاری کر کے اپنے خیالات کی تشہیر کریں تو تم روک سکتے ہو؟ نصرانی مدارس اور اخبارات کے ذریعہ سے اپنے خیالات پھیلا جائیں تو پرواہ نہ کرو مگر روک پیدا کر و تو ایسے لوگوں کے لئے جو خادم دین ہیں۔الغرض گورنر نے حضرت سے عرض کیا کہ آپ بے شک مبلغین اور مبشرین اسلام یہاں بھیجیں ہم ان کی حتی المقدر مدد کریں گے اور اگر لوگ ان پر حملہ بھی کریں گے تو ہم ان کی حفاظت اور مدد کریں گے البتہ اگر لوگوں کا زور اور غلبہ و فتنہ اتنا بڑھ جائے کہ ہماری طاقت سے اس کا دبنا اور رکنا ممکن نہ ہو تو پھر ہم آپ سے کہہ دیں گے کہ آپ اپنا انتظام آپ کر لیں ور نہ ہم ہر طرح سے مدد کے لئے حاضر ہیں وغیرہ وغیرہ۔مخالف مولوی نے تشہیر کر دی حضرت اقدس کی تشریف آوری کا اعلان اخبارات میں ہو چکا تھا۔بعض مولوی صاحبان حضور سے مل کر سلسلہ کے حالات سے آگاہ ہو چکے تھے۔بعض ایڈیٹروں اور علماء کو حضور کے خدام گھروں پر جا کر سلسلہ کی تبلیغ کر آئے تھے۔جامع اموی کے خطیب نے اور بھی شہرت اسطرح کر دی کہ اپنے خطبہ جمعہ میں حضور انور اور آپکے وفد کی مخالفت کی ہے اور سخت سست الفاظ استعمال کئے اور یوں گویا ایک اشتہار دے دیا ہے۔کئی مولوی محض خطبہ میں حضور کا ذکر سن کر دیکھنے کو چلے آئے اور اس قدر لوگ آئے کہ ہوٹل میں کوئی کرسی باقی نہ رہی بلکہ اکثر لوگ گفتگو کھڑے ہو کر سن رہے تھے۔