مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 82
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کہ اسے بولا جائے۔بولنے سے ضروری صرف و نحو خود بخود آ جاتی ہے۔چنانچہ اسی لئے حضرت اقدس نے 1895ء میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کو (جو اس وقت 14 برس کے تھے عربی کا قریبا ایک ہزار فقرہ ترجمہ سے لکھوایا۔حضور روزانہ پندرہ بیس کے قریب فقرے لکھوا دیتے اور دوسرے دن سبق سن کر اور لکھوا دیتے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی بھی حضرت میر صاحب کے ہم سبق تھے۔تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 522 78 سیرت المہدی کی مندرجہ ذیل روایت سے بھی اس مہم کے بارہ میں معلومات ملتی ہیں : ”میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام کو اس طرف توجہ تھی کہ جماعت میں عربی بول چال کا رواج ہو۔چنانچہ ابتدا میں ہم لوگوں کو عربی فقرات لکھ کر دیئے گئے تھے جو خاص حد تک یاد کئے گئے تھے بلکہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی یاد کراتے تھے۔میرا لڑکا ( مولوی قمر الدین فاضل ) اس وقت چار پانچ سال کا تھا جب میں اسے کہتا۔ابریق " تو فوراً لوٹا پکڑ لاتا۔( قمر الدین کی پیدائش بفضل خدامئی 1900 کی ہے) مگر کچھ عرصہ یہ تحریک جاری رہی بعد میں حالات بدل گئے اور تحریک معرض التوا میں آگئی۔(سیرت المہدی روایت نمبر 1370