مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 70 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 70

66 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ایک زمانہ تک حیات وفات مسیح کے متعلق بڑا اشتباہ رہا مگر غور کیا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں۔اور واقعی قرآن شریف میں کوئی آیت ایسی نہیں جس سے حیات مسیح علیہ السلام ثابت ہو سکے۔جس قدر آیتیں ہیں ان سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہود کا جو دعویٰ ہے کہ ان کو صلیب دی گئی تھی غلط ہے۔بلکہ اپنی طبعی موت سے مرے۔مثلا آیت کریمہ (إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) اس میں ایک تو توفی ہے ایک رفع الی اللہ ہے ایک تظہیر ہے ایک متبعین کو مخالفین پر غالب کرنا ہے۔ہر ایک ان میں سے واقع ہو گیا اور جس ترتیب۔یکے بعد دیگرے لفظاً واقع ہیں اس طرح سے یکے بعد دیگرے ظہور میں آئے۔پہلے توفی ہوئے پھر رفع ہوا پھر تطہیر ہوئی اور پھر آپ کے متبعین کو بھی غلبہ ہو گیا۔اب بتائیے کہ وہ تشریف لاویں گے کیوں ، اور کیا ضرورت باقی رہی ہے؟ دوسری آیت ( فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ ) یہ صاف ظاہر ہے کہ قیامت سے تعلق رکھتی اور یہاں وفات کے معنے موت ہی کے ہیں۔پر دوسری آیت میں توفی بمعنی رفع مع الجسم العنصری کیسے ہو جاوے گا۔الْقِيَامَةِ تیسری آیت وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيناً - بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ہے۔اس میں صاف ظاہر ہے کہ موت کی نفی نہیں کی گئی ہے بلکہ اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ وہ قتل نہیں کئے گئے۔رہی آیت ( وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا) اس آیت میں ضمیر حضرت مسیح کی طرف عائد ہونے میں کلام ہے۔کسی نے قرآن کی طرف راجع کیا ہے، کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ، کسی نے حضرت مسیح کی طرف۔اکثر مفسرین نے اسی ضمیر کے مرجع میں اختلاف کیا ہے۔پھر ہم کیونکر خواہ مخواہ حضرت مسیح کو ہی مرجع ضمیر ٹھہرا لیویں۔اور کم از کم جب مفسرین کا اختلاف ہو گیا تو کسی صورت سے صحیح نہیں رہا۔کیونکہ إِذَا جَاءَ الاِحْتِمَالُ بَطَلَ الاستدلال۔اور پھر مہربانی فرما کر کوئی شخص ہم کو اس آیت کے معنے ہی ذرا سمجھا دیویں کہ ( وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتاب ) سے کیا مراد ہے؟ آیا کہ دنیا میں جب سے اہل کتاب کا وجود آیا ہے قیامت تک جس قدر ہوئے اور ہو دیں گے ان کی موت سے قبل تو یہ یقیناً باطل ہے۔کیونکہ کروڑوں اہل کتاب مرگئے بے ایمان لائے ہوئے ، اور مرتے چلے جاتے ہیں۔اب کی