مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 71
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 67 یہ کہو کہ انکے نزول من السماء کے وقت جس قدر اہل کتاب روئے زمیں پر موجود ہوویں گے سب آپ پر ایمان لاویں گے۔تو یہی محال ہے کیونکہ تمام روئے زمین کے اہل کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر تو ایمان لائے نہیں حضرت مسیح پر کیسے ایمان لے آویں گے۔نیز خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ( فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ) صاف بتلا رہا ہے کہ کافروں کے فرقے قیامت تک رہیں گے۔اگر آیت مدوحہ بالا کے یہ معنے کئے جاویں کہ سب حضرت عیسی پر ایمان لے آویں کے تو اس سے قرآن شریف کے بیان میں اختلاف لازم آتا ہے۔گویا وہ کسی جگہ کچھ کہتا ہے اور دوسری جگہ اس کے مخالف بیان فرما تا ہے۔۔۔۔۔۔ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ یہود نے ٹھو کر کھائی۔اور انکی کتاب میں جبکہ یہ لکھا ہے کہ مسیح اس وقت آوے گا جب ایلیا آسمان سے دوبارہ آئیگا۔ایلیا نہیں آیا لہذا وہ مسیح کو بھی نہیں مانتے کیونکہ وہاں تو ایلیا کا مثیل آیا۔اور کتاب میں نفس ایلیا لکھا تھا۔تو ہم کہتے ہیں جب ہمارے پاس ایک یہ نظیر بھی موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم ان کی طرح مسیح کے آسمان سے نازل ہونے کے منتظر رہیں۔اور وقت ہاتھ سے جاتا رہے، کفِ افسوس ملنے کے سوا اور کچھ بھی نہ آوے۔ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے۔اور بنظر خیر خواہی ہم لوگوں کے لئے یہ لکھتے ہیں کہ: فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر۔مجھے تو امید ہے کہ جو شخص میری اس تحریر کو بنظر انصاف دیکھے گا وہ ضرور انشاء اللہ اس سے فائدہ اٹھاوے گا۔ویسے رہی ہٹ دھرمی اور ضد تو اسکا علاج کوئی نہیں۔اسکا علاج خدا کرے۔اور جب یہ شخص کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں ، کھلے نشان اپنے ساتھ رکھتا ہوں چنانچہ کسوف و خسوف جس کو تمام دنیا نے دیکھا اور جس کا منتظر ایک جہان تھا وہ بھی وقوع میں آ گیا ، پھر اس کے ماننے میں کیا تا مل ہوسکتا ہے۔“ نشان مانگنا صدیقیت کے خلاف ہے اور ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم کو نشانوں کی حاجت کیا ہے۔حضرت صدیق اکبر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کونسا نشان طلب کیا تھا۔اور واقعی صدیقیت اسی سے تو عبارت ہے کہ بے کسی نشان و معجزہ کے دیکھے ایمان لے آئے ورنہ ان میں اور دوسروں میں جو نشان یا معجزہ دیکھ کر ایمان لائے فرق ہی کیا رہتا۔ہمارا تو یہ خیال ہے کہ ہم نے خدا کی