مردانِ خدا — Page 69
مردان خدا ۶۹ حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب روپے۔یہی میرا اثاثہ تھا۔لیکن میرے مولیٰ نے مجھ کو ضائع نہیں کیا۔میں نے وطن چھوڑا تھا اس سے بہتر وطن مجھ کو ملا۔بیوی چھوڑی تھی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بیوی بھی دی۔دو بچوں کو مجھے چھوڑنا پڑا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو پانچ لڑکے اور چار لڑکیاں عنایت کیں۔رشتہ داروں اور برادری سے تعلق تو ڑا تھا یہاں آکر ان سے بہتر رشتہ دار اور محبت کرنے والی برادری ملی۔رہنے کے لئے مکان دیا۔مجھ کو اپنی محسنہ والدہ کو چھوڑنا پڑا تھا جو مجھ کو سب سے زیادہ عزیز تھیں۔بظاہر اس کمی کا پورا ہونا مشکل تھا پر میرے رب نے یہ کمی بھی پوری کی اور میری پیاری ماں بھی مجھ کو دی۔وہ قادیان آئیں اور مشرف (با حمدیت) ہوئیں۔میرے پاس ہی آخر دم تک رہیں اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئیں۔میرے رب کے مجھ پر کس قدر فضل ہوئے؟ جب میں سوچتا ہوں تو میری روح سجدہ میں گر جاتی ہے“۔سچ ہے۔( رفقاء احمد جلد نمبر ، ا صفحه ۶۸) اس جہاں کو چھوڑنا تیرے دیوانوں کا کام نقد پا لیتے ہیں وہ اور دوسرے امید وار