مردانِ خدا — Page 68
مردان خدا ۶۸ حضرت شیخ عبدالرحیم شر ما صاحب اگر چہ میرے عزیز واقارب حتی کہ ماں نے بھی مجھے چھوڑ دیا ہے۔لیکن حضور تو ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہمدرد اور خیر خواہ ہیں۔تیری موجودگی میں تجھ سے بڑھ کر اور میرا کون ہمدرد ہو سکتا ہے۔اگر عزیز واقارب نے چھوڑ دیا ہے تو تو موجود ہے۔تو میری دستگیری فرما اور اس دُکھ (سے) جو میری روح کو کھا رہا ہے نجات دے۔نماز میں میں خدا تعالیٰ کے حضور خوب رویا۔اسی دوران میں مجھے ایسا پسینہ آیا کہ میرا بخار خدا تعالیٰ کے فضل سے اتر گیا اور میرے دل کو غیر معمولی تسکین و راحت ہونی شروع ہو گئی۔“ ( رفقاء احمد جلد دہم صفحه ۶۲-۶۳) اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت شر ما صاحب کو کامیاب فرمایا اور جیسا کہ اُس کا وعدہ ہے کہ جو انسان بھی خدا کیلئے قربانی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا اجر عظیم عطا فرما تا ہے اور کئی گنا کر کے لوٹاتا ہے۔آپ کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہوا۔آپ ان فضلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس وقت جب میں یہ سوچتا ہوں کہ میں کس طرح (احمدی ) ہو گیا تو سخت حیران ہوتا ہوں۔میرے وہ دوست جو مجھ سے واقف ہیں وہ میری حالت کو جانتے ہیں۔میری طبیعت میں حجاب زیادہ ہے مجھ میں بھلا یہ طاقت کہاں تھی میں ازخود (احمدی ) ہو جاتا اور پھر سب رکاوٹوں اور مخالفتوں کا مقابلہ کر سکتا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہی تھا کہ اس نے مجھ کو ( دین حق ) قبول کرنے کی توفیق بخشی اور نہ صرف یہ کہ میں (احمدی) ہو گیا بلکہ یہ سعادت بھی ملی کہ میں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔۔کی۔۔۔پھر دنیوی لحاظ سے بھی گھاٹے میں نہیں رہا۔میں اکیلا قادیان آیا تھا اس وقت میری کیا حالت تھی۔ایک جوتی۔ایک دو جوڑے کپڑوں کے اور چند